لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید پانے والے ملزم کو بری کر دیا
10-17-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم راجہ شاہد کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ مستند سی سی ٹی وی فوٹیج فوجداری مقدمات میں بنیادی دستاویزی شہادت بن سکتی ہے اور بعض حالات میں عینی شاہدین کے بغیر بھی سزا کی بنیاد بن سکتی ہے، تاہم ویڈیو کی صداقت، اصل ریکارڈنگ کی سالمیت اور شواہد کی تحویل کا تسلسل ثابت کرنا ضروری ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ زیرِ سماعت مقدمے میں سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد کے درمیان اہم تضادات موجود تھے، جن کی بنیاد پر ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کیا جانا ضروری تھا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے 30 مارچ 2024 کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی، جبکہ ملزم پر عائد تین لاکھ روپے ہرجانے کی سزا بھی ختم کر دی۔ فیصلے کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے واضح نہیں تھے، اس لیے صرف جسمانی ساخت میں مشابہت کی بنیاد پر ملزم کی شناخت کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی صورت حال میں قابلِ اعتماد شناختی شواہد ضروری ہیں۔ اگر ویڈیو میں چہرے واضح نہ ہوں تو فرانزک طریقوں سے فوٹیج بہتر بنانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ گواہوں کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں فائرنگ اور ملزمان کے فرار ہونے کے واقعات سے متعلق اہم تضادات سامنے آئے۔ ملزم نے جائے وقوعہ پر اپنی موجودگی اور مقتول کو لاتیں مارنے کا اعتراف کیا تھا، تاہم اس نے فائرنگ کرکے قتل کرنے کے الزام سے انکار کیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ طبی شواہد سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ مقتول کے زمین پر گرنے کے بعد اسے مزید گولیاں ماری گئی تھیں۔ استغاثہ ان شواہد اور بیانات کے ذریعے ملزم کے خلاف قتل کا الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ محض جسمانی ساخت میں مشابہت یا اعتراف کے کسی جزوی حصے کی بنیاد پر کسی شخص کو قتل کا مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فوجداری مقدمات میں ایک معقول شک بھی ملزم کو بری کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ مقدمے کے پس منظر کے مطابق مقتول رانا محمد نعیم قیصر کو 18 ستمبر 2022 کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ مقتول اور ملزم کے درمیان سابقہ جھگڑے کو قتل کی واردات کا محرک قرار دیا گیا، جبکہ واقعے کا مقدمہ تھانہ مغلپورہ لاہور میں درج کیا گیا تھا۔