لاہور میں ستھرا پنجاب اینٹی لٹرنگ سکواڈ متحرک، رواں ماہ 18 ہزار ہاٹ اسپاٹس کی انسپکشن

10-16-2026

(لاہور نیوز) شہر میں صفائی کا معیار برقرار رکھنے اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے ستھرا پنجاب لاہور اینٹی لٹرنگ اسکواڈ کی گشت اور آگاہی سرگرمیاں جاری ہیں۔ سکواڈ کی جانب سے شہر کی اہم شاہراہوں، کمرشل مارکیٹس اور مختلف ہاٹ اسپاٹ ایریاز کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

سی ای او لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) شہریار عارف خان کے مطابق اینٹی لٹرنگ اسکواڈ نے رواں ماہ کے دوران 18 ہزار سے زائد ہاٹ اسپاٹ ایریاز کی انسپکشن کی، جبکہ صفائی قوانین کی خلاف ورزی پر 1,500 سے زائد دکانداروں کو ای چالان اور وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی ڈمپنگ اور کوڑا جلانے والوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس ضمن میں ایل ڈی اے سٹی، واپڈا ٹاؤن اور نواب ٹاؤن سمیت 10 سے زائد مقامات پر استغاثے اور ایف آئی آرز درج کروائی گئیں۔ شہریار عارف خان کے مطابق لاہور کے تمام ٹاؤنز میں صفائی کا معیار برقرار رکھنے کے لیے اینٹی لٹرنگ اسکواڈ کی سرویلنس جاری ہے۔ ستھرا پنجاب کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے اسکواڈ دن اور رات کی شفٹوں میں فرائض انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام پورہ، مزنگ، جین مندر، بینک روڈ، ساندہ روڈ اور ٹیمپل روڈ سمیت مختلف علاقوں میں اسکواڈ کا گشت جاری ہے، جبکہ خیابانِ جناح، رنگ روڈ، فردوس چوک اور فرخ آباد کی مارکیٹس میں صفائی سے متعلق آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کمرشل مارکیٹس میں دکانداروں کو دکانوں کے باہر کوڑا پھینکنے سے گریز کرنے اور صفائی کا معیار برقرار رکھنے کے لیے ڈسٹ بنز رکھنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ شہریوں اور کاروباری طبقے کو کوڑا پھیلانے پر ممکنہ کارروائی اور جرمانوں سے متعلق بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آؤٹ فال روڈ، بند روڈ، سگیاں، شاہدرہ موڑ اور پھول منڈی سمیت مختلف مقامات پر بھی اینٹی لٹرنگ اسکواڈ کی جانب سے صفائی سے متعلق آگاہی سرگرمیاں جاری ہیں۔ سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی نے کہا کہ اینٹی لٹرنگ اسکواڈ کی سرگرمیوں کا مقصد شہریوں اور کاروباری طبقے میں صفائی سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور انہیں شہر کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور میں صفائی کے معیار کو برقرار رکھنے اور صفائی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور آگاہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔