لاہور ہائیکورٹ نے سیلز اور انکم ٹیکس کے تاخیر سے دائر ریفرنسز مسترد کر دیئے

10-14-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس سے متعلق مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ایف بی آر اور دیگر سرکاری محکموں کی تاخیر معافی کی متفرق درخواستیں خارج کر دیں۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ دفتری اعتراضات دور کرنے کے لیے دی گئی مہلت کو قانونی مدت میں توسیع تصور نہیں کیا جا سکتا اور مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد نامکمل درخواست کو مکمل کرنے سے وہ قانونی طور پر بروقت دائر شدہ نہیں بن جاتی۔ جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال دوگل پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی نظائر کی روشنی میں نامکمل درخواستیں قانونی طور پر دائر شدہ تصور نہیں ہوں گی، دفتری اعتراضات دور کرنے کی مہلت کو ریفرنس دائر کرنے کی مقررہ قانونی مدت میں توسیع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانونِ میعاد (لمیٹیشن) کے اطلاق کے معاملے میں سرکاری محکمے اور عام شہری برابر ہیں، ایف بی آر سمیت کسی بھی سرکاری ادارے کو تاخیر کی بنیاد پر خصوصی یا امتیازی رعایت نہیں دی جا سکتی، دفتری طریقہ کار اور محکموں کی اندرونی روایات کو بنیاد بنا کر درخواستیں تاخیر سے دائر کرنے کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے کے مطابق سال 2023 میں دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز میں تقریباً تین سال بعد تاخیر معافی کی درخواستیں دائر کرنا غیر معقول ہے، درخواست گزار اپنی غفلت اور نامکمل درخواستیں دائر کرنے کی ذمہ داری ہائیکورٹ کے دفتر پر عائد نہیں کر سکتے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے دائر تاخیر معافی کی متفرق درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیصلے کی مصدقہ نقل اپیلٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔