ہائی بلڈ پریشر خاموش قاتل، قابو کیسے پایا جا سکتا ہے؟
10-13-2026
(ویب ڈیسک) ہائی بلڈ پریشر ایک عام مگر سنگین طبی مسئلہ ہے، جو اکثر واضح علامات کے بغیر موجود رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کی اہم وجوہات میں نمک کا زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی اور نیند کی کمی شامل ہیں، اس کے علاوہ عمر میں اضافہ، خاندانی تاریخ اور گردوں سمیت بعض دیگر بیماریوں کے باعث بھی بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔ بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے کیلئے روزمرہ معمولات میں مثبت تبدیلیاں ضروری ہیں، کھانے میں نمک کی مقدار کم کرنے اور اچار، چپس سمیت زیادہ نمک والی تیار شدہ غذاؤں سے پرہیز کرنے سے مدد مل سکتی ہے، پھلوں، سبزیوں، دالوں، ثابت اناج اور کم چکنائی والی غذاؤں پر مشتمل متوازن خوراک بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت اجازت دے تو روزانہ تقریباً 30 منٹ تیز قدموں سے چہل قدمی یا دوسری مناسب جسمانی سرگرمی اپنانی چاہئے، اضافی وزن کم کرنا، روزانہ سات سے نو گھنٹے کی نیند لینا اور سگریٹ سمیت تمباکو کی دیگر مصنوعات سے اجتناب کرنا بھی دل اور خون کی شریانوں کی صحت کیلئے فائدہ مند ہے۔ بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے پیمائش اور ڈاکٹر سے مشورہ بھی ضروری ہے، بالغ افراد میں 120/80 ملی میٹر مرکری سے کم ریڈنگ عموماً بہترین سمجھی جاتی ہے، تاہم بلڈ پریشر کی تشخیص کیلئے مختلف طبی رہنما اصولوں میں حدود مختلف ہو سکتی ہیں، بار بار 140/90 یا اس سے زیادہ ریڈنگ آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بلڈ پریشر 180/120 یا اس سے زیادہ ہو تو کم از کم ایک منٹ بعد دوبارہ پیمائش کریں، اگر اس کے ساتھ سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، شدید سر درد، جسم میں کمزوری یا نظر میں تبدیلی جیسی علامات ہوں تو فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں، علامات نہ ہونے کے باوجود ریڈنگ اتنی زیادہ برقرار رہے تو فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔