پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں آرمز آرڈیننس کے 86 فیصد سے زائد زیرِ التوا مقدمات کے فیصلے

10-10-2026

(محمد اشفاق) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی پالیسز پر عمل درآمد سے صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965کے تحت 2023 تک کے زیر التواء 86 فیصد سے زائد مقدمات کے فیصلے کر دیئے گئے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی جانب سے جاری ہدایات کی روشنی میں پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ سائلین کو جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے، اسی سلسلہ میں گزشتہ 6 ماہ کے قلیل عرصہ کے دوران فاضل چیف جسٹس کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت2023 تک کے زیر التواء 3ہزار397 مقدمات میں سے 2ہزار934 مقدمات کے فیصلے کر دیئے گئے ہیں۔ پنجاب کے 17 اضلاع میں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت2023 تک کے تمام مقدمات کے فیصلے کر دیئے گئے ہیں، جبکہ باقی اضلاع میں 2023 تک کے زیر التواء463 مقدمات میں سے بڑی تعداد زیر التواء مرڈر ٹرائلز کے ساتھ منسلک ہے۔ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی جانب سے مزید ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ متذکرہ زیر التواء مقدمات کے ساتھ منسلک مرڈر ٹرائلز کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت باقی مانندہ مقدمات کے فیصلے بھی جلد ہو سکیں۔ وکلا کا کہنا ہے کہ یہ سنگِ میل چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی جانب سے جاری خصوصی ہدایات، جدید عدالتی اصلاحات، موثر کیس مینجمنٹ سسٹم، فعال نگرانی اور شفافیت پر مبنی حکمت عملی کی بدولت عبور کیا گیا ہے، عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے ناصرف زیر التواء مقدمات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آرہی ہے بلکہ وکلاء اور سائلین کا نظامِ عدل پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوا ہے۔