فوڈ اتھارٹی کی پابندی مجسٹریٹ ختم نہیں کر سکتا،لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

10-10-2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے آئل مل ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے تحت ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر کو برقرار رکھنے، تبدیل کرنے یا کالعدم قرار دینے کا اختیار فوڈ اتھارٹی کو حاصل ہے، مجسٹریٹ کو قانون میں اختیار دیے بغیر ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے 16 اکتوبر 2024 کو بورے والا میں ملتان روڈ پر واقع بورے والا آئل مل کا معائنہ کیا، اس دوران ایک گاڑی میں تقریباً 30 ہزار لیٹر رینڈرڈ فیٹ آئل موجود تھا، تاہم موقع پر تیل کی جانچ کا مطلوبہ ریکارڈ اور تجزیاتی سرٹیفکیٹ دستیاب نہیں تھے۔ فوڈ اتھارٹی نے پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کی دفعہ 18 کے تحت ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر جاری کیا، جبکہ اسی روز تھانہ صدر بورے والا میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق آئل مل کے مالک نے مجسٹریٹ دفعہ 30 بورے والا سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے 29 جنوری 2025 کو آئل مل ڈی سیل کرنے اور کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم دے دیا، پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مجسٹریٹ کو ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر ختم کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ جسٹس غلام سرور نہنگ نے فیصلے میں لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی عدالت قانون کی جانب سے تفویض کردہ اختیار کے بغیر اپنے دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کر سکتی، پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کی دفعہ 18(2) کے تحت فوڈ اتھارٹی متعلقہ فوڈ آپریٹر کو نوٹس دینے اور تحریری وجوہات ریکارڈ کرنے کے بعد ایمرجنسی پروہیبیشن آرڈر کی توثیق، اس میں ترمیم یا اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق مجسٹریٹ کو ایکٹ کے تحت جرائم کی سماعت کا اختیار حاصل ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ فوڈ اتھارٹی کے انتظامی احکامات بھی ختم کر سکتا ہے، عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون میں مقررہ طریقہ کار کو نظرانداز کرکے کسی دوسرے فورم سے ریلیف حاصل نہیں کیا جا سکتا، سیل شدہ کاروباری جگہ کو ڈی سیل کرنے سے متعلق پنجاب فوڈ اتھارٹی کے 2016 کے ضوابط میں ڈائریکٹر جنرل کو مجاز اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق مالی مشکلات یا لائسنس کی قانونی حیثیت سے متعلق مؤقف بھی کسی عدالت کو ایسا اختیار نہیں دے سکتا جو قانون نے اسے تفویض نہ کیا ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے میں فوڈ اتھارٹی کی اصل کارروائی کے میرٹ، رینڈرڈ فیٹ آئل کے محفوظ یا غیر محفوظ ہونے، لیبارٹری رپورٹس کی حیثیت یا ملزم کی فوجداری ذمہ داری کا تعین نہیں کیا گیا، عدالت نے صرف مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانونی سوال کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مجسٹریٹ کا آئل مل ڈی سیل کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا، تاہم آئل مل کے مالک کو قانون کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی سے رجوع کرنے کی اجازت دے دی، عدالت نے قرار دیا کہ ایسی درخواست پر مجاز اتھارٹی مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق میرٹ پر فیصلہ کرے۔