پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث تیز، ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں 32صوبے بنانے کی تجاویز

10-09-2026

(ویب ڈیسک) ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ملک کو اپنے انتظامی نقشے پر نظرثانی کرنے اور مزید صوبے بنانے کے امکان پر غور کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

  رپورٹ، جس کا عنوان What Pakistan Reveals About Administrative Reform for Fast-Growing Populations (تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادیوں کے لیے انتظامی اصلاحات کے حوالے سے پاکستان سے حاصل ہونے والے اسباق) ہے، میں جائزہ لیا گیا ہے کہ 1951 کے بعد پاکستان کی آبادی سات گنا سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک اب بھی انہی چار بڑے صوبوں کے انتظامی ڈھانچے کے تحت کام کر رہا ہے۔ رپورٹ میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کے لیے کئی ممکنہ ماڈلز پیش کیے گئے ہیں، جن میں 16 انتظامی یونٹس بنانا، ان کی تعداد 23 سے 25 تک بڑھانا، یا موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر 32 سے زائد صوبےبنانا شامل ہے۔ تجزیے میں اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو اجاگر کیا گیا ہے جس کا سامنا حکومتوں کو تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری عوامی خدمات فراہم کرنے کے سلسلے میں کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور معاشرتی ضروریات میں تنوع آ رہا ہے۔ تجزیے میں اِس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اندازہ ہے کہ 2030 تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے انتظامی اصلاحات کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق انتظامی حدود کو آبادیاتی اور معاشی حقائق کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے تاہم اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ صرف نئے صوبے بنانے سے عوامی خدمات میں بہتری کی ضمانت نہیں ملتی، اس مقصد کے لیے قابلِ اعتماد مالی وسائل، واضح طور پر متعین ذمہ داریاں، مضبوط ادارے اور مؤثر احتسابی نظام بھی ضروری ہیں۔ نئے صوبے ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ میں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تنظیم کے لیے کئی منظرنامے پیش کیے گئے ہیں، ہر ماڈل میں انتظامی کارکردگی، عوامی اخراجات اور شہریوں و فیصلہ سازوں کے درمیان فاصلے کے حوالے سے مختلف نوعیت کا توازن موجود ہے۔ ایک تجویز یہ ہے کہ ملک کے موجودہ چاروں صوبوں کو مزید چار، چار حصوں میں تقسیم کر کے مجموعی طور پر 16 انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں، اس ماڈل کے تحت ہر یونٹ کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ سے کم ہو کر ڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی۔ اس سے زیادہ وسیع تجویز کے تحت آبادی کے توازن یا جغرافیائی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 سے 25 انتظامی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ موجودہ سول ڈویژنز کو بنیاد بنا کر 32 سے زائد صوبے  تشکیل دیے جائیں، تاکہ ان کی اوسط آبادی دیگر بڑی وفاقی ریاستوں کے قریب لائی جا سکے۔ رپورٹ میں وضاحتی نقشے بھی شامل ہیں، جن میں 16 یونٹس پر مشتمل انتظامی ڈھانچے اور 20 سے زائد یونٹس والے زیادہ وسیع انتظامی نظام کی ممکنہ شکلیں دکھائی گئی ہیں۔ ہر ماڈل کے اپنے سیاسی، انتظامی اور مالی تقاضے ہوں گے، نئے صوبوں کی نسبتاً کم تعداد کے لیے قانون سازی اور مالی وسائل کی فراہمی آسان ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ تعداد میں صوبے بنانے سے انتظامی دارالحکومت، بجٹ اور فیصلہ سازی کے اختیارات مقامی آبادی کے قریب آ سکتے ہیں۔ تاہم، اضافی حکومتیں قائم کرنے پر عبوری اخراجات بھی آئیں گے اور عوامی خدمات، بجٹ اور اداروں کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مناسب انتظامی صلاحیت درکار ہوگی۔ رپورٹ پاکستان کے لیے کسی ایک مخصوص صوبائی نقشے کی سفارش نہیں کرتی، اس کے بجائے، یہ مختلف انتظامی ماڈلز کے درمیان انتخاب کو ایک پالیسی معاملے کے طور پر پیش کرتی ہے، مناسب ماڈل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انتظامی ذمہ داریوں کو آبادی کی ضروریات اور دستیاب وسائل کے ساتھ کس حد تک مؤثر انداز میں ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ آبادی میں عدم توازن پاکستان کی آبادی کا حجم اس بحث کو خاص طور پر اہم بناتا ہے، صرف پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ہے، جبکہ رقبے کے لحاظ سے کہیں زیادہ وسیع بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم ہے۔ یہ فرق صوبوں کے اندر بھی نمایاں ہے، لاہور ضلع کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ہے، جبکہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی آبادی تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار ہے۔ یہ متضاد اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے اضلاع کے لیے صوبائی پالیسیاں بنانا کتنا مشکل ہے جن کی آبادی، معاشی حالات اور عوامی خدمات کی ضروریات ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہوں۔ صوبائی دارالحکومتوں میں کیے جانے والے فیصلوں میں گنجان آباد شہری مراکز کے ساتھ ساتھ چھوٹی اور جغرافیائی طور پر دور دراز آبادیوں کی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے۔ جب انتظامی مراکز دور دراز اضلاع سے زیادہ فاصلے پر ہوں تو شہریوں کے لیے ان فیصلوں پر اثرانداز ہونا مشکل ہو سکتا ہے جو ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ کے مطابق انتظامی جغرافیہ اس بات میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ حکومتیں محصولات کیسے جمع کرتی ہیں، عوامی فنڈز کیسے تقسیم کرتی ہیں، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کیسے کرتی ہیں، ہنگامی حالات سے کیسے نمٹتی ہیں اور کارکردگی کا جائزہ کیسے لیتی ہیں۔ جب انتظامی حدود اور یونٹس کا حجم آبادیاتی اور معاشی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تو پالیسی سازوں اور عوام کے درمیان فاصلہ مؤثر حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے،مجوزہ انتظامی تنظیمِ نو کا مقصد سیاسی اختیارات اور انتظامی وسائل کو عوام کے قریب لا کر اس عدم توازن کو دور کرنا ہے۔ تعلیم میں فرق عوامی خدمات کی فراہمی میں فرق بھی پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کے ضلعی تعلیمی کارکردگی اشاریے ڈسٹرک ایجوکیسن پرفارمنس کے مطابق جائزہ لیے گئے 134 اضلاع میں سے کوئی بھی ضلع ’’بہت اعلیٰ‘‘ کارکردگی کے زمرے میں شامل نہیں ہو سکا۔ قومی گھریلو سروے کی رپورٹوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ سے 16 سال کی عمر کے 28 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں، صوبائی سطح پر یہ شرح پنجاب میں 21 فیصد سے لے کر بلوچستان میں 45 فیصد تک ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک بھر میں تعلیمی نتائج کے نمایاں فرق کو واضح کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ صوبائی پالیسیوں اور بجٹ کو ضلعی سطح پر قابلِ پیمائش بہتری میں تبدیل کرنا کتنا بڑا چیلنج ہے۔ رپورٹ ان تفاوتوں کو فیصلہ سازی اور مقامی ضروریات کے درمیان فاصلے، نیز عوامی فنڈز کی تقسیم اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کارکردگی کے درمیان فرق سے جوڑتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انتظامی اصلاحات کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے کہ کتنے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے گئے، بلکہ اصل پیمانہ عوامی خدمات میں بہتری ہونا چاہیے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس مقامی ترجیحات کی نشاندہی اور اخراجات کی نگرانی کو آسان بنا سکتے ہیں، لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان کی حکومتوں کو مطلوبہ اختیارات، مالی وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت حاصل ہے یا نہیں۔ عالمی تجربات سے سبق پاکستان واحد بڑا ملک نہیں جس نے آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچے اور حدود پر نظرثانی کی ہو۔ نائیجیریا نے 1967 میں اپنے تین علاقائی یونٹس کے نظام کو تبدیل کر کے 12 ریاستیں قائم کیں، جن کی تعداد 1996 تک بڑھ کر 36 ہو گئی، انڈونیشیا میں بھی صوبوں کی تعداد 1991 میں 27 تھی، جو اب بڑھ کر 38 ہو چکی ہے۔ کینیا نے 2013 میں ایک مختلف راستہ اختیار کیا اور اپنے آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتیں قائم کیں، جنہیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر مبنی نظام کے تحت کام کرنا تھا۔ ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا، نائیجیریا اور برازیل میں پہلے درجے کی انتظامی اکائیوں کی اوسط آبادی تقریباً 60 لاکھ سے 80 لاکھ کے درمیان ہے، جو پاکستان کے چار صوبوں کی اوسط آبادی، یعنی تقریباً چھ کروڑ، سے کہیں کم ہے۔ کینیا کی مثال خاص طور پر قابلِ غور ہے، کیونکہ وہاں انتظامی تنظیمِ نو کے ساتھ سیاسی ذمہ داریوں اور عوامی مالیات کے نظام میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ کاؤنٹی حکومتوں کو منتخب اداروں کی حیثیت دی گئی اور آئینی طور پر محفوظ ذمہ داریاں سونپی گئیں، اس کے علاوہ قومی آمدنی میں ان کے حصے کا تعین ایک طے شدہ فارمولے کے تحت کیا گیا، اس فارمولے میں آبادی اور غربت سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ رپورٹ انتظامی اور مالیاتی اصلاحات کے اس امتزاج کو ایک اہم فرق قرار دیتی ہے، نئی حدود قائم کرنے کے ساتھ ایسے ادارے اور مالیاتی انتظامات بھی متعارف کرائے گئے جن کا مقصد مقامی حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل بنانا تھا۔ اس کے برعکس لبنان کی مثال موجود ہے، جہاں ایک ہزار سے زائد بلدیاتی ادارے ہونے کے باوجود ان میں سے بہت سے ادارے اتنے چھوٹے اور مالی طور پر کمزور ہیں کہ مؤثر انداز میں خدمات فراہم نہیں کر سکتے۔ یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے انتظامی یونٹس قائم کرنا خطرات سے خالی نہیں جن کے پاس مناسب مالی وسائل، قابل عملہ اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت موجود نہ ہو۔ پاکستان کے لیے رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ اضافی صوبے بنانے کی کسی بھی کوشش کے ساتھ عوامی مالیات اور ادارہ جاتی انتظامات میں اصلاحات بھی ضروری ہوں گی۔ مالی وسائل کا چیلنج ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ پاکستان کے موجودہ انتظامی نظام اور مستقبل میں ہونے والی کسی بھی تنظیمِ نو کی مؤثریت میں صوبائی محصولات کی وصولی کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن این ایف سی ایوارڈ نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا،اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صحت اور تعلیم سمیت اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں، جبکہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا۔ تاہم، عوامی خدمات کی زیادہ ذمہ داریاں ملنے کے باوجود صوبے اپنے محصولات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں کر سکے۔ رپورٹ کے مطابق، مالی سال25-2024 کے دوران صوبائی ٹیکسوں سے 983 ارب پاکستانی روپے حاصل ہوئے، جو مجموعی ملکی پیداوار جی ڈی پی کے 0.9 فیصد سے بھی کم تھے۔ زراعت اس حوالے سے ایک خاص چیلنج ہے، یہ شعبہ مجموعی اضافی قدر (ویلیو ایڈڈ) میں 24 فیصد حصہ رکھتا ہے، لیکن زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کے باوجود اس شعبے سے تاریخی طور پر اس کی معاشی اہمیت کے تناسب سے بہت کم محصولات حاصل ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اندازے کے مطابق، زراعت پر مؤثر ٹیکس کی شرح صرف 0.3 فیصد ہے، سال 2025 میں ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کے باوجود زرعی آمدنی سے حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیاں بھی توقعات سے کم رہی ہیں۔ صوبائی ٹیکس حکام کو طویل عرصے سے کئی مسائل کا سامنا ہے، جن میں انتظامی صلاحیت کی کمی، ٹیکس قوانین پر کمزور عمل درآمد اور قابلِ ٹیکس زرعی آمدنی کی نشاندہی کے لیے ناکافی معلومات شامل ہیں۔ حالیہ اصلاحات کے ذریعے ان میں سے بعض کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ بہتر معلوماتی تبادلے، زیادہ خودکار نظام اور صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی کی مضبوط صلاحیت پر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کے ساتھ ان خامیوں کو دور کرنا بھی ضروری ہوگا، محصولات کے مضبوط نظام اور قابلِ پیش گوئی مالی منتقلیوں کے بغیر نئے صوبوں کو بھی وہی مالی مشکلات ورثے میں مل سکتی ہیں جن کا سامنا موجودہ صوبائی حکومتوں کو ہے۔ اختیارات کی منتقلی میں اصلاحات اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ نے وفاقی حکومت سے صوبوں کو اختیارات اور وسائل منتقل کرنے میں اہم پیش رفت کی، تاہم، ڈبلیو ای ایف کی رپورٹ کے مطابق، صوبوں کے اندر بھی فیصلہ سازی عوام سے دور رہ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عمل صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انتظامی اختیارات، مالی وسائل اور جوابدہی ان اضلاع اور آبادیوں تک بھی پہنچنی چاہیے جو عوامی پالیسیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس سیاسی اور انتظامی قیادت کے لیے مزید مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں، جس سے حکومتوں کو مقامی معاشی صلاحیتوں اور مخصوص علاقائی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ امر پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ ملک تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتِ حال، پانی کی قلت اور نوجوان آبادی کے لیے روزگار پیدا کرنے کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ تاہم، رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ انتظامی تقسیم میں اضافے کو بذاتِ خود ایک مقصد نہیں سمجھنا چاہیے، اگر مختلف حکومتوں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے متصادم ہوں یا ان کے بجٹ ناکافی رہیں تو زیادہ تعداد میں حکومتیں قائم کرنے سے عوامی خدمات بہتر ہونے کے بجائے انتظامی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے مؤثر اصلاحات کے لیے واضح ذمہ داریاں، قابلِ اعتماد مالی منتقلیاں، کارکردگی سے متعلق قابلِ موازنہ اعداد و شمار اور حکومتوں کے لیے اپنے وسائل سے محصولات جمع کرنے کی ترغیبات ضروری ہوں گی۔ مالیاتی اختیارات کو عوام کے قریب لانے سے جوابدہی بھی مضبوط ہو سکتی ہے، کیونکہ شہریوں کے لیے یہ سمجھنا آسان ہو جائے گا کہ وہ جو ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کے بدلے انہیں کون سی خدمات مل رہی ہیں۔ رپورٹ اس بات پر خصوصی زور دیتی ہے کہ نئی انتظامی حدود قائم کرنے کے ساتھ ہی مالیاتی نظام اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا تعین بھی کیا جائے، نہ کہ ان معاملات کو بعد کے لیے الگ چھوڑ دیا جائے۔ پاکستان جب ممکنہ انتظامی تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے تو بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومتی اکائیوں کے حجم کو آبادی کی ضروریات کے مطابق کیسے بنایا جائے اور اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ ہر نئی انتظامیہ کے پاس عوام کو بنیادی خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری وسائل اور صلاحیت موجود ہو۔