چیف جسٹس پاکستان کی بار نمائندگان سے مشاورتی نشست
10-09-2026
(لاہور نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا دورہ کیا اور بار نمائندگان کے ساتھ مشاورتی نشست کی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے ہمراہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی موجود تھے، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید، دیگر عہدیداران اور بار اراکین نے مشاورتی نشست میں شرکت کی۔ نشست میں عدالتی اصلاحات، ڈیجیٹل جدت، کیس مینجمنٹ اور سائلین کو سہولیات کی فراہمی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سپریم کورٹ انتظامیہ نے بار نمائندگان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ سے متعلق بریفنگ دی۔ اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ کے ذریعے وکلاء، سائلین اور عام شہریوں کو عدالتی معلومات اور خدمات تک 24 گھنٹے رسائی حاصل ہوگی، اس پلیٹ فارم پر عام فہم زبان میں سوالات کرکے عدالتی معلومات حاصل کی جا سکیں گی جبکہ مقدمات کی تلاش، کاز لسٹ، سماعت کی تاریخوں، وکلاء کی معلومات اور ججز کے عدالتی روسٹرز تک بھی رسائی ممکن ہوگی۔ اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ پر مصدقہ نقول کی درخواستوں، جلد سماعت کی درخواستوں، ویڈیو لنک سہولیات اور سماعت ملتوی ہونے سے متعلق معلومات بھی دستیاب ہوں گی، یہ سہولت [https://sja.scp.gov.pk/](https://sja.scp.gov.pk/) پر دستیاب ہے۔ نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے وکلاء اور سائلین کے وقت اور اخراجات میں کمی لانے کے ساتھ غیر ضروری عدالتی دوروں سے بچنے میں مدد ملے گی۔ سپریم کورٹ کی آن لائن خدمات کے استعمال میں آسانی کے لیے معلوماتی ویڈیو گائیڈز بھی تیار کر لی گئی ہیں جبکہ بار نمائندگان کو ان گائیڈز کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے بار نمائندگان کو مقدمات کے فیصلوں اور زیرِ التوا مقدمات میں کمی سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا، انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2026 کے دوران ٹیکس کے 395 مقدمات کی سماعت کی گئی۔ جیل پٹیشنز کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق بار کے تحفظات پر وضاحت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جیل پٹیشنز دائر ہونے کی ترتیب کے مطابق سماعت کے لیے مقرر کی جاتی ہیں اور پہلے دائر ہونے والی پٹیشنز کو ترجیح دی جاتی ہے، تاہم متعلقہ عدالتی ریکارڈ کی دستیابی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن پرانی جیل پٹیشنز کا مطلوبہ ریکارڈ موصول نہیں ہوا، انہیں ریکارڈ کی دستیابی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکتا، جیل پٹیشنز مقرر کرنے کا طریقۂ کار انصاف، یکسانیت اور شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کے مطابق جلد سماعت کی 192 درخواستیں موصول ہوئیں، جنہیں دوپہر ایک بجے کے بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا، ان درخواستوں کے مقرر ہونے کے بعد اب دوپہر کے بینچ کے سامنے نئے مقدمات مقرر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی منظوری دینے کا مجاز ہے، جبکہ ایسی درخواستوں کے لیے ٹھوس اور قابلِ جواز وجوہات پیش کرنا ضروری ہیں۔ بار نمائندگان نے عدالتی انتظام، مقدمات مقرر کرنے کے طریقۂ کار اور سائلین کی سہولت سے متعلق تجاویز پیش کیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتی خدمات میں بہتری کے لیے بینچ اور بار کے درمیان مسلسل مشاورت اور تعاون ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی ڈیجیٹل اصلاحات کا مقصد بروقت انصاف، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف تک آسان رسائی یقینی بنانا ہے۔