چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی عدالتی و کیس مینجمنٹ اصلاحات کے ثمرات سامنے آنے لگے

10-08-2026

(محمد اشفاق) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی عدالتی و کیس مینجمنٹ اصلاحات کے ثمرات سامنے آنے لگے۔

لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ 15 ماہ میں سزائے موت اور عمر قید کے خلاف دائر 945 مرڈر اور کیپیٹل سینٹینس ریفرینسز کے فیصلے کر دیئے گئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات پر نافذ عدالتی اصلاحات، جدید کیس مینجمنٹ سسٹم اور مؤثر مانیٹرنگ کے تحت صوبہ بھر کی ضلعی و اعلیٰ عدالتیں جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ 15 مہینوں میں سزائے موت و عمر قید کے خلاف دائر سالہا سال سے زیر التوا 945 سزائے موت کے فیصلے کیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق لاہور ہائی کورٹ لاہور پرنسپل سیٹ اور ملتان، بہاولپور و راولپنڈی بنچزپر یکم جولائی 2025 سے 30 ستمبر 2026 تک 897 مرڈر ریفرینسز کے فیصلے کئے گئے۔ اسی عرصہ کے دوران انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ منشیات، اینٹی ریپ ایکٹ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت سزائے موت و عمر قید کے خلاف دائر 48 سزائے موت کے بھی فیصلے کئے گئے۔ وکلاء نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئےبڑی تعداد میں سزائے موت کے فیصلوں کو قابلِ ستائش قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جدید عدالتی اصلاحات، کیس مینجمنٹ سسٹم، فعال نگرانی اور شفافیت پر مبنی حکمت عملی کی بدولت تاریخ میں پہلی بار عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ اس سسٹم سے ناصرف زیر التواء مقدمات کی تعداد میں کمی آئی ہے بلکہ وکلاء اور سائلین کا نظامِ عدل پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوا ہے۔