مالی بدعنوانی، سابق خطیب داتا دربار مفتی محمد رمضان سیالوی کو سزا، رقم کی ریکوری کا حکم
10-07-2026
(لاہور نیوز) محکمہ اوقاف کی انکوائری میں مالی بدعنوانی، خرد برد، فراڈ، جعلسازی اور مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر سابق خطیب داتا دربار مفتی محمد رمضان سیالوی کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی۔
ذرائع کے مطابق مفتی محمد رمضان سیالوی کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت باقاعدہ انکوائری کی گئی، جس میں انکوائری افسر اور پرسنل ہیئرنگ افسر نے الزامات اور متعلقہ ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا، انکوائری رپورٹ کے مطابق داتا دربار کے عرس اور عالمی تصوف کانفرنس کے مالی معاملات میں بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق مفتی محمد رمضان سیالوی کو 26 لاکھ 58 ہزار 83 روپے کی ریکوری ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، احکامات کے تحت مفتی محمد رمضان سیالوی کی 5 سال کیلئے بی ایس 19 سے بی ایس 18 میں تنزلی بھی کر دی گئی ہے۔ محکمہ اوقاف نے انہیں فوری طور پر زونل خطیب اوقاف ڈیرہ غازی خان تعینات کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ لاہور اور مضافاتی علاقوں میں ان کی 5 سال تک تعیناتی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ احکامات کے مطابق مفتی محمد رمضان سیالوی کی مستقبل میں کسی بڑی درگاہ یا اس سے ملحقہ مسجد میں تعیناتی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، محکمہ اوقاف کی کارروائی انکوائری میں سامنے آنے والے ریکارڈ اور الزامات کے جائزے کے بعد کی گئی ہے۔