مہنگائی نے ناشتے کی اشیا بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کردیں

10-07-2026

(لاہور نیوز) مہنگائی نے شہریوں کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ بچوں اور بزرگوں کے لیے صبح کا ناشتہ، جس میں بریڈ آملیٹ، بریڈ جیم یا دودھ رس شامل ہوتا ہے، اب کئی گھرانوں کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے۔

ڈبل روٹی اور بریڈ کی قیمتیں بدستور بلند ہیں۔ مختلف کمپنیوں اور برانڈز کی بڑی بریڈ کا پیکٹ 250 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ میڈیم بریڈ 170 اور چھوٹی بریڈ 130 روپے تک میں دستیاب ہے۔ بن کی قیمت 60 روپے جبکہ شیرمال 70 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ رس کا بڑا پیکٹ 260 جبکہ چھوٹا پیکٹ 160 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ فارمی انڈوں کی قیمت 264 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم شہریوں کے مطابق مارکیٹ میں یہ 275 روپے تک میں فروخت ہو رہے ہیں۔ مختلف کمپنیوں کے جیم کے جار کی قیمت 170 سے 400 روپے تک جبکہ مکھن کی ٹکیہ 50 سے 200 روپے تک میں فروخت کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث بچوں اور بزرگوں کو ناشتہ کرانا بھی مشکل ہو گیا ہے، بچے سکول جانے سے پہلے بریڈ آملیٹ یا بریڈ جیم کا کہتے ہیں، لیکن قیمتیں دیکھ کر خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک شہری نے کہا، ہر شے ہی مہنگی ہو چکی ہے، کچھ بھی سستا نہیں رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔