پنشنر والد کی پنشن سے نابالغ بچوں کا نان و نفقہ ادا کیا جاسکتا ہے: لاہور ہائیکورٹ

10-07-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ صرف پنشنر ہونے کی بنیاد پر والد نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کی قانونی ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا، جبکہ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان و نفقہ کی ڈگری پر والد کی پنشن منسلک کی جا سکتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جاوید اقبال وینس اور جسٹس وقار حیدر اعوان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پنشن کی اٹیچمنٹ کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلہ جسٹس وقار حیدر اعوان نے تحریر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نابالغ بچوں کا نان و نفقہ عام قرض نہیں بلکہ والد پر عائد قانونی ذمہ داری ہے، جو بچے اور والد کے رشتے سے پیدا ہوتی ہے۔ فیملی کورٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی ڈگری والد کی پہلے سے موجود نان و نفقہ کی ذمہ داری کو متعین اور نافذ کرتی ہے۔ فیصلے کے مطابق نابالغ بچوں کے حق میں نان و نفقہ کی حتمی ڈگری پر عملدرآمد کے لیے والد کی پنشن منسلک کی جاسکتی ہے اور فیملی کورٹ کو پنشن اکاؤنٹ منسلک کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پنشن ایکٹ 1871 کے سیکشن 11 کا اطلاق نابالغ بچوں کے حق میں جاری حتمی نان و نفقہ کی ڈگری پر نہیں ہوتا۔ صرف پنشنر ہونے کی بنیاد پر والد اپنے بچوں کے نان و نفقہ کی ادائیگی سے استثنیٰ حاصل نہیں کرسکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت پنشن کو حاصل تحفظ بھی نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کے قانونی حق پر ترجیح نہیں رکھتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ نابالغ بچوں کا نان و نفقہ اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی قانون میں بھی تسلیم شدہ حق ہے، اس لیے پنشن کی قانونی حیثیت کو بنیاد بنا کر اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے مذکورہ قانونی نکات کی روشنی میں پنشن کی اٹیچمنٹ کے خلاف درخواست مسترد کردی۔