پنجاب کی 5 اہم سڑکیں نجی شعبے کے سپرد کرنے کا فیصلہ

10-04-2026

(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے تحت روڈز کے پانچ منصوبوں کا ڈیجیٹل افتتاح کر دیا۔

منصوبوں کی منتقلی کے بعد پنجاب کی پانچ اہم سڑکوں کا انتظام و انصرام نجی شعبے کے سپرد کر دیا جائے گا، جس سے حکومت پنجاب کو 22 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شامل منصوبوں میں مریدکے نارووال 80 کلومیٹر روڈ، شکرگڑھ نارووال 33 کلومیٹر روڈ، فیصل آباد رنگ روڈ 97 کلومیٹر، فیصل آباد ساہیانوالہ 52 کلومیٹر اور فیصل آباد سمندری رجانہ 56 کلومیٹر روڈ شامل ہیں۔ پی پی پی موڈ پر منتقل ہونے والی سڑکوں پر جدید الیکٹرانک ٹول پلازے قائم کیے جائیں گے۔ نجی کنٹریکٹر سات سال کے لیے متعلقہ روڈز پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے منسلک ٹول کلیکشن کرے گا، جبکہ سڑکوں کی دیکھ بھال، تعمیر و مرمت کی ذمہ داری بھی نجی کمپنی کی ہوگی۔ پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن اور سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ پی پی پی اتھارٹی کے تحت منصوبوں کی پراسیسنگ کا دورانیہ دو سال سے کم کرکے چھ ماہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے مزید چار سڑکوں کو بھی پی پی پی موڈ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں بہاولپور یزمان 42 کلومیٹر، یزمان احمد پور شرقیہ 43 کلومیٹر، رائیونڈ چھانگا مانگا 28 کلومیٹر اور گجومتہ قصور 26 کلومیٹر روڈ شامل ہیں۔ پی پی پی اتھارٹی کے تحت ہاسٹلز، ہسپتالوں، پارکس، سپورٹس گراؤنڈز، ویسٹ ٹو انرجی، واٹر سپلائی، ری سائیکلنگ، پارکنگ پلازوں اور سیاحت کے متعدد منصوبے بھی پائپ لائن میں ہیں۔ صنعتی زونز میں زہریلے پانی کی صفائی کے لیے افلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کیے جائیں گے۔ زرافہ کیفے، ٹورازم اور فوڈ سٹریٹ کے منصوبے بھی پی پی پی موڈ پر مکمل کیے جائیں گے۔ چکوال اور قصور میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کے منصوبے بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل ہوں گے۔ لاہور میں ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت ٹائم ٹریول پارک بنایا جائے گا، جبکہ پہلی مرتبہ مویشیوں میں منہ کھر کی بیماری سے بچاؤ کے لیے ایف ایم ڈی ویکسین پروٹیکشن پلانٹ قائم کیا جائے گا۔ بادامی باغ لاری اڈہ میں پارکنگ پلازہ اور ملٹی ماڈل کمرشل فسیلٹی، دریائے ستلج پر ساہوکا پتن کے مقام پر پل اور پنجاب کی سبزی و فروٹ منڈیوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بلیک سولجر فلائی لاروی کے منصوبے بھی پی پی پی موڈ میں شامل ہیں۔ پنجاب بھر میں 100 سپورٹس گراؤنڈز اور دیگر سہولتوں کی مینجمنٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ فیصل آباد میں ماڈرن ٹرک ٹرمینل بھی بنایا جائے گا۔ پنجاب یونیورسٹی سمیت 28 سرکاری یونیورسٹیوں میں گرلز اور بوائز ہاسٹلز تعمیر کیے جائیں گے۔ تین میڈیکل کالجز میں بھی پی پی پی کے تحت ہاسٹلز بنائے جائیں گے، جبکہ صوبہ بھر میں ورکنگ ویمن کے لیے 14 ہاسٹلز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں نرسنگ ہاسٹل اور فریدیہ پارک ساہیوال کے آپریشن و ڈویلپمنٹ کا منصوبہ بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ ڈویژنل سطح پر کمشنر کی سربراہی میں قائم پی پی پی ورکنگ پارٹی 500 ملین روپے تک کے منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد کر سکے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے منصوبوں پر پیش رفت کو سراہتے ہوئے سیکرٹری فنانس مجاہد شیر دل، سیکرٹری مواصلات راجہ جہانگیر انور، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی پی اتھارٹی ڈاکٹر ذیشان حنیف اور ان کی ٹیم کو شاباش دی۔ صوبائی وزیر مواصلات صہیب احمد بھرت، سیکرٹری فنانس مجاہد شیر دل اور سیکرٹری مواصلات راجہ جہانگیر انور نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔