سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق
10-03-2026
(لاہور نیوز) سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے اب امید نہیں رہی، اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو پھر کاکروچ باہر آئیں گے، تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان کی سربراہی کون کرے گا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی، ایک دوسرے پر الزامات اور طعنے دینے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا جبکہ جماعتوں کو چاپلوس پیدا کرنا بھی بند کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ملک میں بددل ہوتے جارہے ہیں، سیاسی جماعتوں کو عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا، اگر عوام کا فیصلہ نہیں مانا جائے گا تو ملک سانحات سے دوچار ہوتا رہے گا، انہوں نے 40 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی، تاہم پی ٹی آئی نے ان کی جیت تسلیم نہیں کی، سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج اور عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ چھوٹے صوبوں کے حامی ہیں، تاہم مسائل صرف چھوٹے صوبوں کو حقوق دینے سے نہیں بلکہ نیت درست کرنے سے حل ہوں گے۔ ان کے مطابق ماضی میں ہم نے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ سوتیلے باپ جیسا سلوک کیا۔ سابق وفاقی وزیر نے لوکل گورنمنٹ کے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئے لوگ اسی نظام کے ذریعے سامنے آئیں گے، جو لوگ اہلیت نہیں رکھتے انہیں عوام پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کی سیاسی عمر اب زیادہ نہیں رہی، وہ زندگی میں رہتے ہوئے سچ بولنا چاہتے ہیں اور اب آگے انہیں صرف قبر نظر آرہی ہے، معاشرے کو بیدار کرنے کے لیے مختلف آوازوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہوگا، فی الحال نئی سیاسی جماعتیں بنانے کی ضرورت نہیں، موجودہ لولی لنگڑی اور ٹوٹی پھوٹی جماعتوں سے ہی گزارہ کرلینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ سیاسی جماعتیں دل سے کام کریں، وہ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کی نمائندگی کرتے ہوئے نہیں بلکہ اپنی ذاتی رائے کے طور پر کررہے ہیں، مڈل کلاس کو اسمبلیوں میں آنے کا موقع ملنا چاہیے، یہ بات درست نہیں کہ ہر الیکشن میں مداخلت ہوئی، بلکہ بعض انتخابات میں مداخلت ہوئی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایک منتخب حکومت کے دور میں دھرنے کرائے گئے اور نواز شریف کی منتخب حکومت کے دور میں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی اصلاح خود کرنا ہوگی، اگر اصلاح نہ کی گئی تو پھر کاکروچ باہر نکلیں گے، تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان کاکروچز کی سربراہی کون کرے گا۔