لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: والد کی مالی استطاعت اور بچوں کی ضروریات نان نفقہ کا معیار قرار

10-03-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کے نان نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے والدین کی باہمی رضامندی سے نابالغ بچوں کا خرچہ 30،30 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس عثمان غنی راشد چیمہ نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ والدین آپس میں سمجھوتہ کر سکتے ہیں، لیکن بچے کے قانونی حق کا سودا نہیں کر سکتے۔ تحریری فیصلے کے مطابق والدین باہمی رضامندی سے نابالغ بچے کا نان نفقہ کم یا ختم نہیں کر سکتے، کیونکہ بچے کا نان نفقہ والدین کا نہیں بلکہ خود بچے کا قانونی حق ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ والدہ بطور سرپرست بچے کا نان نفقہ معاف یا کم کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں، جبکہ فیملی کورٹ بھی صرف والدین کے باہمی سمجھوتے کو قبول کرنے کی پابند نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نان نفقہ مقرر کرتے وقت بچے کی ضروریات، فلاح و بہبود، والد کی مالی استطاعت اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ والدین کی رضامندی کے بجائے بچے کی ضروریات اور مفاد کو ترجیح حاصل ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچی کی درخواست منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ فیملی کورٹ بچوں کی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت کا جائزہ لے کر نان نفقہ نئے سرے سے مقرر کرے۔