ذیا بیطس کی ممکنہ علامات کی نشاندہی کے لیے اے آئی پر مبنی ٹول تیار
09-30-2026
(ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے ایک ایسا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول تیار کیا ہے جو انسان کی آواز کی ریکارڈنگ کا تجزیہ کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کی ممکنہ علامات کا سراغ لگا سکتا ہے۔
فی الحال ذیابیطس کی تشخیص عموماً خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے، جس سے گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران خون میں شوگر کی اوسط سطح کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ان افراد کے لیے بھی کیا جاتا ہے جن میں مسلسل تھکن، غیر ارادی طور پر وزن کم ہونا اور ہر وقت پیاس لگنے جیسی علامات ظاہر ہوں۔ نیا اے آئی ٹول ٹیکنالوجی کمپنی Thymia اور آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی، میلبورن کے محققین نے تیار کیا ہے۔ یہ آلہ بنانےو الے سائنس دانوں کے مطابق آواز کا تجزیہ بیماری کی ابتدائی علامات جانچنے کا ایک تیز اور غیر جراحی طریقہ بن سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں آواز میں موجود باریک تبدیلیوں، مثلاً بھاری یا کھردری آواز اور سانس پھولنے جیسی علامات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مبینہ طور پر صرف 20 سیکنڈ میں نتائج فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی روایتی طبی تشخیص کا متبادل نہیں لیکن ذیابیطس کی ممکنہ موجودگی کی ابتدائی نشاندہی کے لیے ایک نئی تحقیقاتی سمت ہے۔