رضوان کا این سی سی آئی اے کو دوسرا خط، موبائل فون واپسی اور انکوائری کی تفصیلات کا مطالبہ
09-29-2026
(لاہور نیوز) قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو دوسرا خط ارسال کر دیا۔
خط میں انہوں نے انکوائری سے متعلق اب تک تحریری طور پر آگاہ نہ کیے جانے اور اپنے موبائل فون کی واپسی میں تاخیر پر وضاحت طلب کی ہے۔ محمد رضوان نے خط میں لکھا ہے کہ انکوائری سے متعلق مجھے تاحال تحریری طور پر کچھ فراہم نہیں کیا گیا جبکہ این سی سی آئی اے نے مزید کارروائی کے حوالے سے مجھ سے رابطہ نہیں کیا، 31 اگست کو جب انگلینڈ میں مجھ سے موبائل فون لیا گیا تو میں نے پاسورڈ فراہم کیا اور میری موجودگی میں میرے موبائل کا معائنہ کیاگیا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ 31 اگست کو مجھ سے موبائل تین گھنٹے کے اندر واپس کرنے کی یقین دہانی پر لیا گیا تھا اور مجھے بتایا گیا تھا کہ میرے فون کا ڈیجیٹل فرانزک جلد مکمل ہو جائے گا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے میں پیشی کے موقع پر حکام کو میرے اَن لاک موبائل فون تک رسائی حاصل تھی اور میری موجودگی میں این سی سی آئی اے حکام نے میرے موبائل فون کے پیغامات اور دیگر مواد کا جائزہ لیا۔ محمد رضوان کے خط میں لکھا گیا ہے کہ میں نے کسی بھی مرحلے پر موبائل پاسورڈ فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا، مجھے بتایا جائے کہ این سی سی آئی اے میں میری حاضری کس تاریخ اور وقت پر درکار ہے؟ خط میں درخواست کی گئی ہے کہ انکوائری کی وجوہات سے مجھے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، میں نے ہمیشہ این سی سی آئی اے کے ساتھ تمام مطلوبہ معلومات کے حوالے سے تعاون کیا ہے۔ محمد رضوان نے خط میں لکھا ہے کہ میرا فون آپ کے پاس ہے، بغیر تاخیر کے میرا فون مجھے واپس کیا جائے اور مجھ سے رابطے کے لیے سرکاری طریقہ کار اختیار کیا جائے اور رابطہ میرے گھر کے پتے پر کیا جائے۔