بچوں کا تحفظ پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے: سارہ احمد
09-26-2026
(لاہور نیوز) چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب و ایم پی اے سارہ احمد نے کہا ہے کہ بچوں کا تحفظ پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے، جبکہ خاندانوں کو درپیش بعض قابلِ پیشگیری بیماریوں کا بوجھ بچوں کے تحفظ اور فلاح کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
سارہ احمد نے انٹرنیشنل کانفرنس آن ری پروڈکٹیو ہیلتھ سے خطاب کرتے ہوئے کزن میرج جیسے اہم موضوع کو قومی کانفرنس کے مرکزی موضوعات میں شامل کرنے پر معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ارشد چوہان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف اور ماہرین کے پینل کی سائنسی شواہد اور آگاہی پر مبنی گفتگو قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے قیام سے اب تک 80 ہزار سے زائد بچوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ اس وقت 1200 سے زائد بچے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی نگہداشت میں ہیں۔ چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً دس میں سے چھ شادیاں قریبی رشتہ داروں کے درمیان ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قریبی رشتہ داروں میں شادی کے حوالے سے جینیاتی بیماریوں اور پیدائشی پیچیدگیوں کے ممکنہ خطرات سے آگاہی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بیٹا تھیلیسیمیا کے لاکھوں کیریئرز موجود ہیں، جبکہ ہر سال ہزاروں بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ شادی سے قبل خون کے ٹیسٹ اور جینیاتی مشاورت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیریئر ہونا شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ بروقت آگاہی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ذریعہ ہے۔ سارہ احمد نے کہا کہ کزن میرج کے حوالے سے خاندانوں کو ثقافتی اور مذہبی حساسیت کے ساتھ طبی حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اسلام میں کزن میرج کی اجازت ہے اور بہت سے خاندانوں کے لیے یہ اعتماد اور تحفظ کا ذریعہ ہے، تاہم صحت کے ممکنہ خطرات سے آگاہی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مقصد خاندانوں کو کزن میرج ترک کرنے کا مطالبہ کرنا نہیں بلکہ باخبر فیصلہ سازی کو فروغ دینا ہے۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے کہا کہ ایک خون کا ٹیسٹ ایک خاندان کو آنے والی نسل کے ممکنہ طبی خطرات سے آگاہ کر سکتا ہے، اس لیے شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ اور جینیاتی مشاورت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔