ایل ڈی اے ایونیو ون کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا، پلاٹوں کے رقبے میں مبینہ کمی کا انکشاف
09-24-2026
(لاہور نیوز) ایل ڈی اے ایونیو ون میں پلاٹ مالکان کے رقبے میں مبینہ طور پر کمی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد متاثرہ الاٹیوں کی جانب سے شکایات اور درخواستوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے انتظامیہ کی جانب سے بعض الاٹیوں کو پیشگی نوٹس دیے بغیر ان کے پلاٹوں کے رقبے اور فرنٹ میں کمی کی گئی۔ ایونیو ون کے مین بلیوارڈ پر واقع ایک کنال کے پلاٹوں کے حوالے سے بھی رقبے اور فرنٹ میں تبدیلی کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ الاٹیوں کا مؤقف ہے کہ ایک جیسا فرنٹ دینے کی بنیاد پر بیشتر پلاٹوں کا فرنٹ کم کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مین بلیوارڈ پر واقع ایک کنال کے بعض پلاٹوں کا فرنٹ مبینہ طور پر 50 فٹ سے کم کرکے 43 فٹ کر دیا گیا۔ ماسٹر پلان اور اسکیم پلان میں تبدیلی کے باعث دو سے زائد الاٹی متاثر ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ متاثرہ الاٹیوں نے پلاٹوں کے رقبے میں کمی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایل ڈی اے حکام کو درخواستیں جمع کرانا شروع کر دی ہیں۔ این او سی اور پلاٹوں کی منتقلی کے لیے ایل ڈی اے دفاتر سے رجوع کرنے والے الاٹیوں کی جانب سے بھی درخواستوں کے انبار لگ گئے ہیں۔ ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ ایونیو ون ڈائریکٹوریٹ اور شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں پلاٹوں کا ماسٹر پلان تبدیل کیا گیا۔ تاہم اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے نے پلاٹوں کے رقبے میں مبینہ کمی کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہاؤسنگ کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ انکوائری افسر کو 14 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری رپورٹ کے بعد ہی پلاٹوں کے رقبے اور فرنٹ میں تبدیلی کی وجوہات، ذمہ داری اور انتظامی فیصلوں کی مزید تفصیلات سامنے آسکیں گی۔