پنجاب میں نیا نصاب منظور، کتابوں کا بوجھ 25 فیصد کم کرنے کا فیصلہ

09-24-2026

(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت تعلیمی اصلاحات سے متعلق خصوصی اجلاس میں پنجاب کے طلبہ کے لیے نئے نصاب کی باضابطہ منظوری دے دی گئی۔

اعلامیے کے مطابق نئے نصاب کے تحت کتابوں کا بوجھ 25 فیصد کم کیا جائے گا، جبکہ رٹے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے جدید تدریسی طریقوں کو فروغ دیا جائے گا۔ اجلاس میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذیلی ادارے پیکٹا نے نئے نصاب پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس دوران انگلش، میتھ، سوشل سٹڈیز، اردو اور ارلی چائلڈ ہوڈ کریکولم کا جائزہ لیا گیا۔ نئے نصاب کے تحت ہر نصابی کتاب میں کیو آر کوڈ شامل کیا جائے گا، جسے سکین کرنے پر طلبہ متعلقہ موضوع کا ویڈیو سبق دیکھ سکیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کلاس ون سے بارہویں جماعت تک اے آئی نصاب بھی طلب کر لیا، جبکہ نصابی کتب کی پرنٹنگ مارچ سے پہلے مکمل کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس میں پنجاب میں پہلی مرتبہ اساتذہ کے لیے مینٹل ہیلتھ ٹریننگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ سکولوں میں جسمانی سزا کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر اتفاق کیا گیا۔ ہر ضلع میں وزیٹنگ فیکلٹی سائیکالوجسٹ تعینات کرنے کی تجویز کا جائزہ لینے کے ساتھ طلبہ کے لیے آن لائن کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ جسمانی سزا کے متبادل کے طور پر کلاس رومز میں ڈسپلن کارنر قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ اجلاس میں پنجاب بھر میں ہفتے کا ایک دن ٹیچر ٹریننگ کے لیے مختص کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ نصابی کتب کے مصنفین خود اساتذہ کی تربیت کریں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ وہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں بہترین ایجوکیشنل ماڈل دیکھنا چاہتی ہیں، اے آئی نصاب کے ساتھ لیبارٹریز بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے، وسائل کی کمی نہیں، تاہم اب وسائل کا ضیاع روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری سکولوں پر محنت اور فوکس کرنا چاہیے تاکہ بچوں کی تعلیمی بنیاد مضبوط ہو، 12 اضلاع کی 31 تحصیلوں میں 35 ہزار اساتذہ کی انگلش لرننگ مکمل کر لی گئی ہے۔ مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ مار پیٹ کا ڈرامہ بچے کی زندگی پر تاحیات اثر انداز ہوتا ہے۔ پنجاب کے سکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔