فاضل چینی برآمد نہ ہوئی تو کاشتکار کو نقصان ہو گا، خالد محمود کھوکھر
09-22-2026
(لاہور نیوز) پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ رواں سیزن میں بھی گزشتہ سال کی نسبت 20 سے 25 فیصد زیادہ چینی پیدا ہونے کی توقع ہے، اس لئے فاضل چینی کو بروقت برآمد کیا جانا چاہئے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ نومبر، دسمبر تک ضرورت کے مطابق چینی کا سٹاک رکھ کر باقی فاضل چینی برآمد کر دینی چاہئے، اگر فاضل چینی برآمد نہ کی گئی تو اس کا نقصان براہ راست کاشتکار کو ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار کے پاس اگلی فصل کی کاشت کیلئے سرمایہ موجود نہیں، جبکہ کسان پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے اور اسے مختلف فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ خالد محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی بات کر رہی ہے، اگر ایسا کرنا ہے تو پورے زرعی نظام کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے۔ ان کے مطابق کاشتکاروں کو سبسڈی نہیں بلکہ اپنی اجناس کے مناسب مارکیٹ ریٹ درکار ہیں، حکومت کسانوں کو بین الاقوامی نرخ فراہم کرے تو پاکستان زرعی اجناس میں سرپلس ملک بن سکتا ہے۔ پاکستان کسان اتحاد کے صدر نے کہا کہ گندم کی فصل کی کاشت کا وقت قریب آ چکا ہے، تاہم ابھی تک گندم کی پالیسی سامنے نہیں آئی، حکومت کو بروقت گندم پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ کاشتکار آئندہ فصل کے حوالے سے بہتر فیصلے کر سکیں۔ خالد محمود کھوکھر نے مزید کہا کہ بارڈر سکیورٹی اور فوڈ سکیورٹی ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں، ملک میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے کسانوں کو مناسب معاوضہ اور مستحکم مارکیٹ فراہم کرنا ضروری ہے۔