سادہ روٹی کی قیمت پر اختلاف، متعدد تندوروں پر 20 روپے تک فروخت

09-22-2026

(لاہور نیوز) نان روٹی ایسوسی ایشن اور محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کے درمیان سادہ روٹی 17 روپے میں فروخت کرنے پر زبانی اتفاق رائے ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ، مجسٹریٹس اور پیرا فورس کو 17 روپے تک روٹی فروخت کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی باقاعدہ سرکاری مراسلہ جاری نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سادہ روٹی کی سرکاری قیمت 14 روپے مقرر ہے، جبکہ بند کمرہ مذاکرات میں 17 روپے قیمت پر زبانی طور پر اتفاق کیا گیا۔ دوسری جانب شہر کے متعدد تندوروں پر سادہ روٹی 20 روپے تک ازخود فروخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم، آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں ازخود اضافے کے باعث صوبہ بھر کے شہریوں کی جیبوں پر روزانہ گراں فروشی کی مد میں لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں بھی مبینہ گراں فروشی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ گراں فروشی کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی کی رفتار کو روکنے میں انتظامی اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔ پنجاب میں سرکاری گندم کا فی من ریٹ 3800 روپے مقرر ہے، تاہم ذرائع کے مطابق لاہور میں گندم 4750 روپے فی من تک ازخود فروخت کی جا رہی ہے۔ دس کلو آٹے کا تھیلا بھی 1130 روپے تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ لاہور سمیت دیگر شہروں میں 20 کلو آٹے کا تھیلا مارکیٹ میں نایاب ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق فوڈ سیفٹی، پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے باوجود اوپن مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ برقرار ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں پر اشیائے خورونوش کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور روٹی کی قیمت کے حوالے سے واضح تحریری احکامات جاری کیے جائیں تاکہ تندور مالکان اور انتظامیہ کے درمیان قیمت کے معاملے پر ابہام ختم ہو سکے۔ دوسری جانب ڈی جی فوڈ کے مطابق پنجاب بھر میں تمام فلور ملز معمول کے مطابق فعال ہیں اور آٹے کی پسائی مسلسل جاری ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے معیاری آٹے کی بلا تعطل فراہمی کے لیے مسلسل نگرانی بھی جاری ہے۔ سیکرٹری فوڈ سیفٹی ڈاکٹر کرن خورشید کا کہنا ہے کہ مہنگی گندم، آٹا اور روٹی فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔