نامکمل رپورٹ پیش کرنے پر چیف جسٹس عالیہ نیلم سی سی پی اولاہور پر برہم، انکوائری رپورٹس طلب
09-22-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے شہری مومن خان کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ سے پولیس اہلکاروں کے خلاف کی گئی انکوائریوں کی رپورٹس طلب کرلیں۔
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری مومن خان کی جانب سے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت نامکمل رپورٹ پیش کرنے پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سی سی پی او لاہور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اس کیس میں نامکمل رپورٹ پیش کرنے والے پولیس ملازمین کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو طلب کرنا چھوڑ دیا تھا، لیکن آپ نے پھر بھی یہ رویہ اختیار کیا، آپ کے افسران کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے، جبکہ آپ کی کوششیں بے کار ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جن پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائریاں کی گئی ہیں، ان کی رپورٹس پیش کی جائیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ آپ کی انکوائریاں بے نتیجہ ہیں۔ اگر آئندہ نامکمل رپورٹ پیش کی گئی تو معاملہ صرف آپ تک محدود نہیں رہے گا۔ دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وقاص عمر سیال نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس درخواست گزار اور اس کے اہلخانہ کو ہراساں نہیں کر رہی۔ درخواست گزار مومن خان نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر تنگ اور ہراساں کرنے کے خلاف دادرسی کے لیے اس کی درخواست سی سی پی او لاہور کو بھجوائی تھی، تاہم عدالتی حکم کے باوجود تھانہ اچھرہ پولیس اسے ہراساں کر رہی ہے اور اس کے گھر پر غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس نے استدعا کی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے درخواست پر کیس کی انکوائری رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کردی۔