گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا اجرا سست روی کا شکار، ہزاروں درخواستیں زیر التوا

09-19-2026

(لاہور نیوز) گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا میں سست روی کے باعث لاہور میں جائیدادوں کی خرید و فروخت اور زمینوں کی تقسیم کا عمل متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی روزنامچہ اور ماہانہ رپورٹ کے مطابق دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کی رفتار تیز نہ ہو سکی، ذرائع کے مطابق لاہور میں زمینوں کی تقسیم اور جائیدادوں کی فردِ بیع پر پابندی کے باعث ریونیو کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے، لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے پاس تقریباً 900 جبکہ سرویرز کے پاس 2 ہزار فائلیں زیر التوا ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں 41 ہزار سے زائد سنگل اونر پراپرٹیز کی درخواستیں رجسٹرڈ ہیں، تاہم گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو ماہ اور 18 روز گزرنے کے دوران لاہور میں صرف 500 گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹس جاری کئے جا سکے، جبکہ مزید تقریباً 1,500 سرٹیفکیٹس تاحال زیر التوا ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 1,800 درخواستوں میں سے صرف 700 درخواستوں پر کام مکمل ہو سکا ہے، لاہور میں آج کے روز بھی گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا کوئی نیا اجرا نہیں ہوا۔ دوسری جانب پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے حوالے سے ابتدائی مرحلے کے کام تیزی سے جاری ہیں اور درخواستوں پر کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔