مشترکہ جائیداد کی نیلامی سے قبل قانونی تقاضے پورے کرنا لازم قرار، لاہور ہائیکورٹ
09-19-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے مشترکہ جائیداد کی نیلامی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کھلی نیلامی سے قبل قانون کے تحت تمام ضروری مراحل مکمل کرنا لازم ہے۔
عدالت نے جائیداد کی نیلامی کی توثیق سے متعلق ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے کر معاملہ ازسرنو فیصلے کیلئے واپس بھجوا دیا، جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سائل غلام محمد کی جانب سے دائر سول نظرثانی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ پنجاب پارٹیشن آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ کے تحت کھلی نیلامی سے قبل اندرونی نیلامی کرانا قانونی تقاضا ہے، رزرو پرائس کا قانون کے مطابق درست تعین کئے بغیر نیلامی کی توثیق نہیں کی جا سکتی۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محض سب سے زیادہ بولی دینے والے کا سامنے آ جانا نیلامی کے طریقہ کار میں موجود قانونی خامیوں کو ختم نہیں کرتا، عدالتی نیلامی میں شفافیت اور تمام شریک مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔ عدالت نے اس امر پر بھی اعتراض کیا کہ ماضی میں 50 لاکھ روپے کی بولی سامنے آنے کے باوجود جائیداد کی نیلامی ساڑھے 36 لاکھ روپے میں منظور کی گئی، لاہور ہائیکورٹ نے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا ساڑھے 36 لاکھ روپے کی نیلامی کی توثیق کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے متاثرہ فریق کے حصے اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا ازسرنو تعین کرنے کی ہدایت کر دی۔ فیصلے کے مطابق خریدار کو درخواست گزار کے حصے کی رقم نئی طے شدہ مارکیٹ قیمت کے مطابق ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا، اگر خریدار مقررہ رقم ادا نہیں کرتا تو درخواست گزار کے حصے کی دوبارہ قانونی نیلامی کی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ دیگر شریک مالکان کی حد تک خرید و فروخت اور خریدار کے حاصل کردہ حقوق برقرار رہیں گے، جبکہ جائیداد کی ملکیت اور حصوں سے متعلق جاری کی گئی ابتدائی ڈگری کی قانونی حیثیت بھی برقرار رہے گی۔ لاہور ہائیکورٹ نے سول نظرثانی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے معاملہ ازسرنو فیصلہ سازی کیلئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو ریمانڈ کر دیا اور ہدایت کی کہ تمام کارروائی تین ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔