عدالتی فائل گمشدگی کیس، 15 سال بعد عدالتی اہلکار بری
09-19-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی فائل گمشدگی کیس میں سزا پانے والے عدالتی اہلکار محمد خالد رشید کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا بھی کالعدم قرار دے دی، عدالت کے مطابق محمد خالد رشید کے خلاف قصور پولیس نے 12 مارچ 2011 کو مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے 2018 میں انہیں دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ جسٹس محمد امجد پرویز نے محمد خالد رشید کی درخواست پر 15 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، فیصلے میں کہا گیا کہ یہ ایسا کیس ہے جس میں جرم ثابت کرنے کیلئے مطلوبہ ثبوت موجود نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی فوجداری جرم کے ارتکاب کیلئے مجرمانہ نیت کا ثابت ہونا ضروری ہے اور محض کسی فعل کا سرزد ہونا کسی شخص کو مجرم قرار دینے کیلئے کافی نہیں، مجرمانہ نیت فوجداری جرم کا لازمی جزو ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے محکمانہ انکوائری کا بھی جائزہ لیا، فیصلے کے مطابق محکمانہ انکوائری میں محمد خالد رشید کو بدعنوانی کا نہیں بلکہ غفلت اور نااہلی کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، عدالت نے قرار دیا کہ محکمانہ انکوائری رپورٹ استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرنے کے بجائے اسے زائل کرتی ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے جن محکمانہ دستاویزات پر انحصار کیا، وہ قانونی طور پر ثابت نہیں کی گئیں، جبکہ محکمانہ انکوائری رپورٹ کے مصنفین بھی ٹرائل کے دوران بطور گواہ پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے تفتیش کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے ملزم کے مؤقف کی مناسب تفتیش نہیں کی اور پہلے ہی ملزم کو قصوروار سمجھ کر تفتیش کرتا رہا، فیصلے میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ گمشدہ عدالتی فائل ملزم کے قبضے سے برآمد نہیں ہوئی۔