پارلیمانی معلومات تک رسائی کیلئے اے آئی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ہدایت
09-18-2026
(لاہور نیوز) پنجاب اسمبلی کی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو پارلیمانی نظام کا حصہ بنانے سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سپیکر ملک محمد احمد خان نے اسمبلی ریکارڈ اور پارلیمانی معلومات تک تیز، آسان اور محفوظ رسائی کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی خصوصی پلیٹ فارم قائم کرنے کی ہدایت کی۔ سپیکر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو محض ڈیجیٹلائزیشن تک محدود رکھنے کے بجائے مؤثر گورننس اور عوامی سہولت کیلئے استعمال کیا جائے، انہوں نے اے آئی پلیٹ فارم کیلئے ضروری تکنیکی وسائل اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں معلومات کی درستگی، سکیورٹی، رازداری اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے، ارکانِ اسمبلی اور اسمبلی سٹاف کو اے آئی کے مؤثر استعمال سے متعلق تربیت فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے جمہوریت اور انتخابی عمل پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ غلط معلومات، جعل سازی، فراڈ اور ڈیجیٹل استحصال کے خدشات بھی زیرِ بحث آئے۔ خصوصی کمیٹی نے انسانی وقار، مساوات اور عدمِ امتیاز سمیت بنیادی حقوق پر مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا، سپیکر نے کہا کہ اے آئی کے استعمال کے ساتھ اس کی پارلیمانی نگرانی بھی ضروری ہے اور قانون ساز اداروں کو جمہوریت اور بنیادی حقوق پر اس ٹیکنالوجی کے اثرات کو سمجھنا ہو گا۔ اجلاس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن پر ہونے والی تین روزہ ورکشاپ کے نتائج بھی زیرِ غور آئے، ارکانِ اسمبلی کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق استعدادِ کار بڑھانے پر زور دیا گیا۔ خصوصی کمیٹی نے پنجاب حکومت کے مختلف ڈیجیٹل منصوبوں، بشمول سماجی و معاشی رجسٹری، کا جائزہ لینے پر بھی غور کیا، کمیٹی نے ریمارکس دیئے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور عوامی مفاد میں استعمال کیلئے جامع گورننس فریم ورک ضروری ہے۔