پاکستان کی بہترین مکئی عالمی منڈی میں کم قیمت پر فروخت ہونے کا انکشاف
09-11-2026
(ویب ڈیسک) پاکستان میں نان جینیٹک موڈیفائیڈ مکئی جس کو حرف عام میں دیسی مکئی بھی کہہ سکتے ہیں کاشت ہوتی ہے۔ اس دیسی پاکستانی مکئی کو بین الاقوامی منڈیوں میں زائد قیمت حاصل ہونا چاہیئے مگر فصل کی کٹائی، ناقص دیکھ بھال اور اسٹوریج مسائل کی وجہ سے یہ مکئی 10فیصد سے 15فیصد کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔
پاکستان سے زرعی اجناس برآمد کرنے والے ادارے ’’لوئس ڈیررس‘‘ کے کنٹری ہیڈ اور گرینز اینڈ آئل سیڈز کے سربراہ محمد دانیال نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ مکئی کی قیمت میں کمی کی وجہ اس کا معیار نہیں بلکہ اس میں پائی جانے والی طلب سے زائد نمی اور دیگر کثافتیں ہیں۔ محمد دانیال کا کہنا تھا کہ ایل ڈی سی کا پاکستان میں آمد کا مقصد یہاں پیدا ہونے والی اضافی اجناس کو عالمی منڈیوں میں مطلوبہ معیارات کے مطابق رسائی فراہم کرنا اور یہاں کے کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت دلوانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں نہری نظام کی وجہ سے یہاں سے زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے اور عالمی منڈی میں فروخت کرنے کے وسیع امکانات روشن ہیں لیکن اس کے لیے زرعی انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانا اور اجناس کی کٹائی کے بعد اسٹوریج اور لاجسٹکس کو معیاری بنانا اہم ہے۔ محمد دانیال کا کہنا تھا کہ پاکستان نان جی ایم او مکئی پیدا کرتا ہے جس کی عالمی سطح پر زیادہ قیمت ملتی ہے لیکن چونکہ ہمارے کسانوں کے پاس مکئی کو خشک کرنے، مناسب جگہ ذخیرہ کرنے اور اسے منڈی تک لانے کا نظام مطلوبہ معیار سے مطابقت نہیں رکھتا ہے اس لیے پاکستانی دیسی مکئی کو عالمی منڈی میں پہلے تو خریدا ہی نہیں جاتا اور اگر کوئی خریدار اسے خریدنے کے لیے تیار ہو جائے تو وہ اسے مارکیٹ کی قیمتوں کی نسبت 10 تا 15فیصد کم قیمت پر خریداری معاہدہ کرتے ہیں۔ اس اہم نوعیت کے مسئلے کا حل بتاتے ہوئے دانیال احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مکئی کی بہترین پیداوار ہوتی ہے۔ مکئی کی کٹائی، خشک کرکے ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار اور مارکیٹنگ کے نظام کو اگر مطلوبہ معیار پر ڈھالا جائے تو اس اقدام کے ذریعے پاکستان کو کروڑوں ڈالر مالیت کے قیمتی زرمبادلہ میں آمدن ممکن ہو سکتی ہے۔ اس مسئلے کا براہ راست تعلق بنیادی انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اجناس کی اسٹوریج کے مسائل کو کسی حد تک حل کرنے کے لیے ایل ڈی سی نے ملتان کے قریب پہلی سائیلج اسٹوریج قائم کر دی ہے جس میں 40ہزار ٹن اناج جس میں گندم، مکئی اور چاول شامل ہیں، کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ انداز میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے زرعی علاقے میں اس سائیلج اسٹوریج بنانے کا مقصد وہاں موجود اضافی پیداوار کو محفوظ بنانا ہے۔