خراب نتائج والے 2,200 سکولوں کی نشاندہی کر لی ہے، رانا سکندر حیات

09-11-2026

(لاہور نیوز) صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ امتحانات میں مسلسل خراب نتائج دینے والے 2,200 سکولوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم  نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران نقل اور جعلسازی کے ہزاروں کیسز پکڑے گئے جبکہ امتحانی مراکز سے نقل مافیا کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، پہلی مرتبہ نویں جماعت کا نصاب رٹے کے بجائے کانسپٹ بیسڈ کیا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، نویں جماعت میں 43 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ نے دسویں جماعت میں 73 فیصد نمبر حاصل کئے۔ رانا سکندر حیات نے بتایا کہ سرکاری سکولوں میں دسویں جماعت کا نتیجہ 73 فیصد جبکہ آؤٹ سورس سکولوں کا نتیجہ 81 فیصد رہا، بہتر نتائج دینے والے پی ای ایف پارٹنرز کو فی طالب علم سبسڈی میں اضافہ کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق مسلسل خراب نتائج دینے والے 2 ہزار 200 سکولوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جن اساتذہ کے نتائج 20 فیصد سے بھی کم ہوں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں ملازمت سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور ہائی پرفارمنگ اساتذہ کیلئے اعزازیہ بھی جاری کرنے جا رہے ہیں، رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ صرف زیادہ تنخواہ لینے والا استاد ہی بہتر کارکردگی نہیں دکھاتا، کم تنخواہ لینے والے بعض اساتذہ بھی بہترین تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صوبائی وزیر  نے کہا کہ امتحانی نظام میں نقل اور جعلی امیدواروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے، امتحانات میں نقل اور جعلسازی کے 1,500 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3,600 کیسز پکڑے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بچے کا رزلٹ چوری نہیں ہونے دیا گیا اور امتحانی نظام کی شفافیت حکومت کی ترجیح ہے، عالمی سطح پر امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کے باوجود پنجاب میں امتحانات کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ سرکاری سکولوں کے بچوں کو کم تر سمجھنے کی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، حکومت سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنانے، تعلیمی ماحول میں بہتری اور طلبہ کو جدید و معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات نہ لینے کے فیصلے کو بھی زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور آئندہ سال نویں جماعت کے نتائج مزید بہتر ہوں گے۔