لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

09-11-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا، عدالت نے یہ حکم 30 سے زائد افغان طلبہ کی جانب سے اپنی بے دخلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران دیا۔

جسٹس خالد اسحاق نے افغان طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کی، دورانِ سماعت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان طلبہ کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے وکیل نے کہا کہ دنیا بھر میں اصول ہے کہ درست ویزے کے بغیر کسی شخص کو قیام کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جسٹس خالد اسحاق نے استفسار کیا کہ جب ان طلبہ کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا تو انہیں تعلیمی ویزے کیسے جاری کیے گئے؟ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ چار سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلبہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیسے کیا گیا، جبکہ ان کے خلاف کسی اقدام سے قبل انہیں سنا جانا چاہئے تھا۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے وکیل نے معاملے کو ریاستی سلامتی سے متعلق قرار دیتے ہوئے امریکا میں ویزا قوانین کی مثال دی اور کہا کہ امریکا میں بھی درست ویزے کے بغیر قیام نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ افغان طلبہ کو اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس بھیجا جا سکتا ہے، عدالت نے ریاستی سلامتی سے متعلق مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ریاستی سلامتی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ کوئی بھی میڈیکل کالج افغان طلبہ کو بے دخل نہ کرے اور نہ ہی ان کے امتحانی پرچے منسوخ کیے جائیں، عدالت نے مزید کارروائی آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے واضح کیا تھا کہ پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے حصول پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی عائد نہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغان میڈیکل طلبہ کا جاری جائزہ کسی مخصوص قومیت کے خلاف امتیازی کارروائی نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کی پاسداری اور دستاویزات کی جانچ کا معاملہ ہے۔ کونسل کے مطابق پاکستان اپنے ریگولیٹری فریم ورک اور حکومتی پالیسیوں کے مطابق ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکی شہریوں کا خیرمقدم کرتا ہے، مقررہ تعلیمی، رجسٹریشن، دستاویزی اور امیگریشن تقاضے پورے کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو باقاعدہ نظام کے تحت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق افغان میڈیکل طلبہ کی تصدیق اور ریگولیٹری جائزے سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں 200 سے زائد افغان طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تاہم ان میں سے صرف 22 طلبہ اس وقت پی ایم اینڈ ڈی سی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا کہ میڈیکل کی ڈگری مکمل کرنا بذاتِ خود پاکستان میں ملازمت یا طبی پریکٹس کے لیے قیام کا حق نہیں دیتا، پاکستان میں میڈیکل پریکٹس کے خواہش مند افراد کو متعلقہ لائسنسنگ اور رجسٹریشن کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے کہا کہ جو طلبہ کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں اور متعلقہ قوانین کے تحت مطلوبہ اجازت نامہ بھی نہیں رکھتے، انہیں پاکستان کے باقاعدہ میڈیکل ایجوکیشن نظام میں قانونی طور پر زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔