پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، گڈز و پبلک ٹرانسپورٹ کرائے بڑھ گئے
09-11-2026
(لاہور نیوز) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بھی اس کے براہِ راست اثرات سامنے آنے لگے۔ گزشتہ سات روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 25 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا، جس کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15 فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹ کے نئے کرائے آج سے نافذالعمل ہوں گے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو جواز بناتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ کیا ہے، جس کا بالواسطہ اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔ لاہور سے بہاولنگر، بہاولپور، گوجرانوالہ، دیپالپور اور منڈی یزمان جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 200 سے 400 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ لاہور سے رحیم یار خان، صادق آباد اور ساہیوال جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی مہنگی ہوگئی ہے، جہاں مسافروں سے 200 سے 400 روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح لاہور سے سکھر، حیدرآباد اور کراچی جانے والی بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 600 سے 1000 روپے تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھائے گئے کرایوں کا ٹرانسپورٹرز کی جانب سے تاحال باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب نے بھی نیا کرایہ نامہ جاری نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے ڈی کلاس بس اسٹینڈز پر مسافروں سے من مانے کرائے وصول کیے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مسافروں کو اضافی کرایوں کی ادائیگی پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی سرویلنس اور انفورسمنٹ میں کمی کے باعث ٹرانسپورٹرز کو من مانے کرائے وصول کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں میں ہونے والے اضافے کا براہِ راست بوجھ عوام اور مسافروں کی جیبوں پر پڑ رہا ہے۔ سات روز کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے ساتھ سفری اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں، جس سے شہریوں کی سفری مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔