سرکاری نرخ نامہ مسترد، سبزیاں مقررہ قیمتوں سے کہیں زیادہ داموں فروخت
09-10-2026
(لاہور نیوز) سرکاری ریٹ لسٹ میں مختلف سبزیوں کے نرخ مقرر کیے جانے کے باوجود پرچون بازاروں میں صارفین سے مقررہ قیمتوں سے کئی گنا زیادہ وصول کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق سبز منڈیوں، پوش علاقوں اور گلی محلوں میں سبزیوں کے الگ الگ نرخ وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق پیاز کی قیمت 215 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم درجہ اول خشک پیاز پرچون بازاروں میں 270 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ ٹماٹر کا سرکاری نرخ 180 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود درجہ اول ٹماٹر 240 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ لہسن ہرنائی کی سرکاری قیمت 290 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ چائنہ لہسن مارکیٹ میں 400 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ ادرک تھائی لینڈ کا سرکاری نرخ 335 روپے مقرر کیا گیا ہے، تاہم مارکیٹ میں ادرک 430 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ لیموں دیسی کے سرکاری نرخ میں 10 روپے اضافہ کرکے قیمت 165 روپے فی کلو مقرر کی گئی، لیکن ریٹیل مارکیٹ میں یہ 240 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ سبز مرچ کا سرکاری نرخ 130 روپے فی کلو ہے، جبکہ مارکیٹ میں 200 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ دیسی ٹینڈے کی سرکاری قیمت 180 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں 280 روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔ آلو کا سرکاری نرخ 30 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود درجہ اول آلو 40 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ شملہ مرچ کا سرکاری نرخ 250 روپے فی کلو ہے، جبکہ درجہ اول شملہ مرچ 350 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ کھیرا 80 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 140 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ بند گوبھی کی سرکاری قیمت 120 روپے مقرر کی گئی ہے، تاہم مارکیٹ میں 220 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ پھول گوبھی کے نرخ میں 10 روپے اضافہ کرکے سرکاری قیمت 170 روپے فی کلو مقرر کی گئی، لیکن پرچون بازاروں میں 240 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ پھلیاں سرکاری طور پر 120 روپے فی کلو مقرر ہیں، جبکہ پرچون بازاروں میں 200 روپے تک فروخت ہو رہی ہیں۔ بینگن کی سرکاری قیمت 100 روپے کے مقابلے میں 160 روپے، جبکہ بھنڈی 170 روپے کے سرکاری نرخ کے بجائے 250 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ گاجر کا سرکاری نرخ 130 روپے مقرر ہے، تاہم پرچون بازاروں میں 160 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ گھیا کدو 140 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 220 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ گھیا توری کے نرخ میں 10 روپے اضافہ کرکے سرکاری قیمت 100 روپے مقرر کی گئی ہے، مگر مارکیٹ میں 150 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ میتھی کی سرکاری قیمت 300 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں 450 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے محض کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں دکاندار من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔