محکمہ فوڈ سیفٹی کو 7 قوانین کے انتظامی معاملات میں شامل کرنے کی تجویز

09-09-2026

(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کو صوبے کے 7 مختلف قوانین کے انتظامی معاملات میں شامل کرنے کی تجویز دے دی۔

پنجاب فوڈ سیفٹی لاز ترمیمی بل 2026 منظوری کیلئے گورنر پنجاب کو ارسال کر دیا گیا، پنجاب فوڈ سیفٹی لاز ترمیمی بل 2026 گزشتہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی سے منظور ہوا تھا، بل کے متن کے مطابق محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن مختلف قوانین میں بطور انتظامی محکمہ اپنے فرائض انجام دے گا۔ ترمیمی بل کے تحت شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں محکمہ فوڈ سیفٹی کو انتظامی محکمہ شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے تحت بھی محکمہ فوڈ سیفٹی انتظامی امور انجام دے گا، پنجاب رجسٹریشن آف گودامز ایکٹ 2014، پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی ایکٹ 2016 اور پنجاب ایگریکلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2018 کے انتظامی معاملات بھی محکمہ فوڈ سیفٹی کے سپرد کرنے کی تجویز ہے۔ بل کے مطابق پنجاب پرائس کنٹرول آف اسینشل کموڈیٹیز ایکٹ 2024 اور پنجاب سہولت بازارز اتھارٹی ایکٹ 2025 میں بھی محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کو انتظامی محکمہ مقرر کیا جائے گا۔ ترمیمی بل میں مختلف اداروں کے فیصلوں کے خلاف ایک یکساں اپیلیٹ نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا مقصد اپیلوں کیلئے مربوط طریقہ کار فراہم کرنا ہے، پنجاب فوڈ سیفٹی لاز ترمیمی بل 2026 کی حتمی منظوری گورنر پنجاب کی جانب سے دی جائے گی، جس کے بعد مجوزہ ترامیم قانونی طور پر نافذ العمل ہونے کی راہ ہموار ہو گی۔