مہنگی گندم نے آٹا بھی مہنگا کر دیا، روٹی کی قیمت بھی بے قابو

09-05-2026

(لاہور نیوز) ہفتے کا آخری روز بھی مہنگی گندم، مہنگے آٹے اور مہنگی روٹی کے ساتھ شروع ہوا، گراں فروشی کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی کی اڑان نہ رک سکی۔

منافع خوروں نے من مانے نرخوں پر گندم، آٹا اور روٹی کی فروخت جاری رکھی، جس کے باعث روزانہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ عوام کی جیبوں پر پڑ رہا ہے۔ لاہور میں گندم کی فی من قیمت سرکاری نرخوں کے برعکس 4 ہزار 775 روپے تک پہنچ گئی ہے اور گندم کی ازخود فروخت جاری ہے۔ طلب کے مقابلے میں کم سپلائی ہونے والا 10 کلو آٹے کا تھیلا 1 ہزار 130 روپے میں من مانے نرخ پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں 20 کلو آٹے کا تھیلا نایاب ہو گیا ہے، جبکہ 15 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 125 روپے میں دھڑلے سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ سادہ روٹی کی مقررہ قیمت 14 روپے کے بجائے مختلف علاقوں میں 20 سے 25 روپے تک وصول کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق رحیم یار خان میں گندم 4 ہزار 700 روپے فی من، لاہور میں 4 ہزار 775 روپے فی من، اسلام آباد میں 4 ہزار 800 روپے فی من، پشاور میں 4 ہزار 850 روپے فی من جبکہ کراچی میں گندم 4 ہزار 900 روپے فی من تک فروخت ہو رہی ہے۔ دوسری جانب متعلقہ محکمے آٹے کی سپلائی میں کسی رکاوٹ نہ ہونے کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں اور دستیابی کی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ محکمہ فوڈ سیفٹی کے اعدادوشمار اور دعوے تو محفوظ ہیں، مگر عملی طور پر گراں فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور پکڑ دھکڑ دکھائی نہیں دے رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محض دعووں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔