خواتین اور طلبا و طالبات کو بااختیار بنانے کیلئے لاہور ٹریفک پولیس کے سکوٹی ڈرائیونگ سکولز فعال

09-05-2026

(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت خواتین خصوصاً طلبا و طالبات کو بااختیار اور خودمختار بنانے کا مشن جاری ہے۔

اسی سلسلے میں ای بائیک سکیم سے مستفید ہونے والے طلبا و طالبات کی سہولت کے لیے لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے پانچ سکوٹی ڈرائیونگ ٹریننگ سکولز قائم کیے گئے ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی ہدایت پر شہر کے تمام لائسنس ٹیسٹنگ سنٹرز میں سکوٹی لائسنس کے لیے الگ کاؤنٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سکوٹی لائسنس کے حصول کے لیے طلبا و طالبات صرف اپنا شناختی کارڈ ہمراہ لائسنس ٹیسٹنگ سنٹر تشریف لائیں۔ لاہور میں آبشار ڈرائیونگ سکول، لبرٹی خدمت مرکز اور گریٹر اقبال پارک میں سکوٹی ڈرائیونگ ٹریننگ سکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس لائنز مناواں اور ایل او ایس فیروزپور روڈ پر بھی سکوٹی ڈرائیونگ سکولز فعال ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر لاہور کے مطابق ایل او ایس فیروزپور روڈ پر صرف خواتین کو مفت سکوٹی چلانے کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جہاں خواتین کو خواتین ہی کی جانب سے تربیت فراہم کرنے کے لیے وویمن ٹو وویمن سروس متعارف کرائی گئی ہے۔ لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق اب تک 15 ہزار 256 خواتین کو ڈرائیونگ سکولز سے ڈرائیونگ کی تربیت دی جا چکی ہے۔ ان میں 8 ہزار 220 خواتین نے کار ڈرائیونگ جبکہ 7 ہزار 290 خواتین نے موٹر سائیکل/سکوٹی چلانے کی مفت تربیت حاصل کی۔ رواں سال بھی 1 ہزار 629 خواتین لاہور ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ سکولز سے تربیت حاصل کر چکی ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ لاہور ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ سکولز سے ہزاروں خواتین بااعتماد ڈرائیور بن چکی ہیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت دے کر انہیں خودمختار اور بااختیار بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بااختیار ہوں گی تو معاشرے میں واضح اور مثبت تبدیلی آئے گی۔ معاشرتی اور سماجی ترقی کے لیے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر بھر میں خواتین کی سہولت کے لیے سکوٹی ٹریننگ کے پانچ جبکہ کار ڈرائیونگ کی تربیت کے لیے 12 ڈرائیونگ سکولز قائم کیے گئے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اور طالبات کو محفوظ، بااعتماد اور ذمہ دار ڈرائیور بننے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔