پنجاب میں لیبر قوانین پر عملدرآمد کیلئے انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ

09-04-2026

(لاہور نیوز) پنجاب میں لیبر قوانین پر مؤثر عملدرآمد کیلئے محکمہ لیبر کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی تیاری کر لی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق محکمہ لیبر کی 124 خالی کلریکل آسامیاں ختم کرکے ان کی جگہ فیلڈ اور تکنیکی نوعیت کی نئی آسامیاں قائم کی جائیں گی۔ دستاویزات کے مطابق سینئر کلرکوں کی 85 اور سٹینوگرافرز کی 39 خالی آسامیاں ختم کی جائیں گی، جبکہ ان کی جگہ 54 لیبر انسپکٹرز تعینات کیے جائیں گے، اس کے علاوہ 4 لیبر افسران، 11 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور 16 ڈپٹی ڈائریکٹرز کی آسامیاں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ محکمہ لیبر میں 39 ڈیٹا انٹری آپریٹرز کی نئی آسامیاں بھی بنائی جائیں گی۔ نئی آسامیاں قائم ہونے کے باوجود محکمہ لیبر کی منظور شدہ مجموعی افرادی قوت 950 ہی رہے گی۔ دستاویزات کے مطابق 950 منظور شدہ آسامیوں میں سے 444 تاحال خالی ہیں۔ مجوزہ نئے انتظامی ڈھانچے کے نتیجے میں سرکاری خزانے پر سالانہ 2 کروڑ 24 لاکھ روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا، نئے فیلڈ اور تکنیکی عہدوں کے ذریعے لیبر قوانین پر عملدرآمد، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔