لاہور میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا منصوبہ 17 سال بعد بھی تعطل کا شکار
09-04-2026
(لاہور نیوز) شہر میں گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کا منصوبہ 17 سال گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کرسکا، جس کے باعث آلودہ پانی کے مسئلے میں اضافہ ہورہا ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر چھوٹے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کیے گئے، تاہم گزشتہ مالی سال کے دوران منصوبوں کے لیے فنڈز جاری نہ ہوسکے۔ واسا کو موہلنوال اور فیروزپور روڈ ہڈیارہ ڈرین پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ دونوں منصوبوں کی باقاعدہ منظوری 2018 میں پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق موہلنوال ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پی سی ون جبکہ فیروزپور روڈ ہڈیارہ ڈرین منصوبے کے پی سی ٹو کی منظوری بھی دی گئی تھی۔ دونوں منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری کے لیے پنجاب حکومت نے 8 کروڑ 75 لاکھ روپے کی منظوری دی، جبکہ منصوبوں پر کام شروع کرنے کے لیے مالی سال میں ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم واسا انتظامیہ تین سال گزرنے کے باوجود دونوں منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹس تیار نہ کرسکی۔ موہلنوال اور ہڈیارہ ڈرین پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے لیے فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری کا منصوبہ تاحال التوا کا شکار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واسا انتظامیہ کی جانب سے دونوں منصوبوں پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث پنجاب حکومت کو بھی صورتحال سے بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔ رواں مالی سال میں موہلنوال اور فیروزپور روڈ ہڈیارہ ڈرین کے دونوں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے 8 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم منصوبوں کی عملی پیش رفت تاحال سوالیہ نشان ہے۔