آٹا، چینی اور گنے پر سیاست نے کاشتکار کو شدید متاثر کیا: خالد کھوکھر
09-04-2026
(لاہور نیوز)مرکزی صدر پاکستان کسان اتحاد خالد کھوکھر نے کہا ہے کہ حکومت آٹا، چینی اور گنے کے معاملات پر سیاست نہ کرے، جہاں سیاست کرنی ہے وہاں ضرور کرے۔
خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ آٹے، چینی اور گنے پر سیاست نے کاشتکار کو شدید متاثر کیا ہے، پہلے گندم کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا، پھر روٹی کی قیمت مقرر کی گئی اور بعد ازاں اگست کے مہینے میں گندم کی قیمت مقرر کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی پیداواری لاگت 3 ہزار 850 روپے فی من ہے، اگر حکومت 4 ہزار 700 روپے فی من گندم کی قیمت یقینی بنا دے تو آئندہ برس آٹے یا گندم کا بحران پیدا نہیں ہو گا۔ کسان اتحاد کے مرکزی صدر نے کہا کہ جب کسان کی باری آتی ہے تو مارکیٹ کو ڈی ریگولیٹ کر دیا جاتا ہے، ڈی ریگولیشن کا مطلب اینڈ ٹو اینڈ ڈی ریگولیشن ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں نے گندم 3 ہزار سے 3 ہزار 500 روپے فی من میں فروخت کی، جبکہ یہی گندم اب 5 ہزار روپے فی من تک فروخت ہو رہی ہے، اس صورتحال میں کاشتکار بھی متاثر ہوا اور صارف بھی مشکلات کا شکار ہے۔ خالد کھوکھر نے کہا کہ جب کسان کو مناسب پیداواری لاگت کے ساتھ آمدن نہیں ملے گی تو زراعت کا شعبہ مزید خراب ہو گا، حکومت کو زرعی پالیسیوں میں کاشتکار کے مفادات کو مدنظر رکھنا ہو گا تاکہ زرعی پیداوار اور خوراک کا نظام مستحکم رہ سکے۔