پاسکو گوداموں سے فلور ملز کو خراب اور پانی لگی گندم کی سپلائی کا انکشاف
09-02-2026
(لاہور نیوز) پاسکو کے گوداموں سے فلور ملز کو مبینہ طور پر خراب اور پانی لگی گندم کی سپلائی کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق فلور ملز کو فراہم کی جانے والی گندم میں موئسچر کی شرح 21 فیصد سے بھی زائد نکل رہی ہے، فلور ملز مالکان کے مطابق عام حالات میں گندم میں موئسچر کی شرح 9 سے 11 فیصد کے درمیان ہونی چاہئے، جبکہ فلور ملز ساڑھے 14 فیصد موئسچر والا آٹا فراہم کرنے کی پابند ہیں۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ 21 فیصد سے زائد موئسچر والی گندم سے تیار ہونے والے آٹے کا معیار متاثر ہوتا ہے، پانی لگی گندم میں بدبو اور کائی پیدا ہونے کے باعث وہ قابل استعمال نہیں رہتی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاسکو کے بعض ملازمین کی جانب سے مبینہ طور پر پانی لگی گندم فلور ملز کو سپلائی کی جا رہی ہے، فلور ملز مالکان نے اس صورتحال پر گندم کے معیار اور سرکاری سپلائی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیئے ہیں، پاسکو سے فلور ملز کو گندم 3 ہزار 800 روپے فی من کے حساب سے فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کا ریٹ تقریباً 4 ہزار 650 روپے فی من ہے۔ فلور ملز مالکان کے مطابق 21 فیصد موئسچر والی گندم کی فراہمی کی صورت میں سرکاری ریٹ پر فی من تقریباً 1100 روپے تک اضافی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، موجودہ صورتحال میں نہ بارش کا موسم ہے اور نہ ہی سیلابی صورتحال، اس کے باوجود زیادہ موئسچر والی گندم کی سپلائی نے انتظامی معاملات اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ فلور ملز مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ پاسکو گوداموں سے فراہم کی جانے والی گندم کے معیار، موئسچر کی شرح اور سپلائی کے عمل کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ناقص گندم کی فراہمی اور ممکنہ مالی نقصان کا تعین کیا جا سکے۔