قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ، صوبوں اور اداروں سے تازہ رپورٹ طلب

08-31-2026

(لاہور نیوز) وفاق نے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے تمام صوبوں اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں سے جولائی اور اگست 2026 کی تازہ پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔

وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری سرکاری دستاویز کے مطابق معلومات 24 ستمبر 2026 تک فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے قومی ایکشن پلان کے سماجی و سیاسی اہداف پر عملدرآمد کی تفصیلات مانگی گئی ہیں، صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس یکجا کرکے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے سیکرٹریٹ کو بھجوائی جائیں گی۔ وزارتِ منصوبہ بندی کو قومی ایکشن پلان کے سماجی و سیاسی شعبے کی ماہانہ پیش رفت رپورٹ جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ ہر اقدام کی ماہانہ پیش رفت نیشنل ایکشن پلان سیکرٹریٹ کو ہر ماہ کی 5 تاریخ تک فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری، ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کو مالی طور پر بااختیار بنانے اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی فنڈز کے استعمال سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے شعبے کیلئے 6 ارب 17 کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ 109 کثیرالشعبہ ضلعی منصوبوں کیلئے 11 ارب 53 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سندھ میں مقامی حکومتوں کیلئے 86 ارب 46 کروڑ 66 لاکھ روپے سے زائد مختص کئے گئے ہیں، جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگرام میں 15 ارب اور ضلعی ترقیاتی پروگرام میں ساڑھے 11 ارب روپے رکھے گئے ہیں، گلگت بلتستان میں مقامی حکومتوں کیلئے 60 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ دستاویز میں بلوچستان، ضم شدہ اضلاع، جنوبی پنجاب اور دیہی سندھ کی مساوی سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق پیش رفت بھی طلب کی گئی ہے، بلوچستان کے سماجی و اقتصادی ترقیاتی اقدامات کیلئے 25 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 29 ارب روپے جبکہ تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کیلئے 52 ارب 28 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کیلئے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 27 ارب روپے جبکہ جنوبی پنجاب کے ترقیاتی اقدامات کے لیے 205 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ وفاق نے اٹھارہویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کا تازہ مردم شماری کی بنیاد پر جامع جائزہ لینے سے متعلق پیش رفت بھی طلب کی ہے، مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی متوازن تقسیم کیلئے تکنیکی، قانونی اور آئینی جائزوں کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاق  نے ملک بھر میں مدارس اور مساجد کی رجسٹریشن کا تازہ ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے، مدارس و مساجد اصلاحات پر عملدرآمد اور اگست میں ہونے والی نئی رجسٹریشن کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سرکاری دستاویز میں پنجاب میں 3 لاکھ 27 ہزار 251 مساجد اور 74 ہزار 235 مدارس، سندھ میں ایک لاکھ 20 ہزار 9 مساجد اور 2 ہزار 985 مدارس جبکہ بلوچستان میں 36 ہزار 856 مساجد اور 2 ہزار 290 مدارس کا ریکارڈ درج ہے۔ اسلام آباد میں 3 ہزار 645 مساجد اور 264 مدارس جبکہ آزاد کشمیر کے ریکارڈ میں 8 ہزار 240 مساجد اور 823 مدارس سمیت رجسٹریشن کے مزید اعداد و شمار درج ہیں، پنجاب میں مدارس سے متعلق ایک اضافی عدد 9 ہزار 54 بھی جدول میں موجود ہے، تاہم سکین میں متعلقہ کالم کی نوعیت مکمل طور پر واضح نہیں۔ وفاق اور صوبوں سے مذہبی ہم آہنگی، برداشت، اقلیتوں کے حقوق اور نفرت انگیز لٹریچر کے خلاف کئے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ اجلاسوں، ورکشاپس، سیمینارز اور قانونی اقدامات کا ریکارڈ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نیشنل کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریم ازم ایکٹ کی تیاری اور منظوری میں پیش رفت سے بھی آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیکٹا، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ قانون کو انسدادِ پُرتشدد انتہاپسندی ایکٹ کی موجودہ صورتحال سے متعلق رپورٹ فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور مقامی سیاسی قیادت کو نوجوانوں کے عوامی اور سماجی عمل میں کردار بڑھانے کا ہدف بھی دیا گیا ہے، صوبوں سے نوجوانوں کیلئے کھیلوں، روزگار میلوں، سیمینارز اور دیگر سرگرمیوں کی تعداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، صوبائی سماجی و سیاسی کمیٹیوں اور ضلعی رابطہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کی تفصیلات اور منٹس بھی طلب کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر قومی ایکشن پلان کے سماجی و سیاسی شعبے میں عملدرآمد کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔