لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی کے دوران لوڈشیڈنگ، شہری بے حال
08-31-2026
(لاہور نیوز) شدید گرمی اور حبس کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، جبکہ بجلی کی مجموعی پیداوار میں کمی اور لیسکو کے خستہ حال ڈسٹری بیوشن سسٹم کو لوڈشیڈنگ کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کے نام پر وقفے وقفے سے جبری لوڈشیڈنگ جاری ہے، بعض علاقوں میں ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے تک غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ ہائی لاسز فیڈرز پر 2 سے 6 گھنٹے تک بجلی بند رکھنے کی اطلاعات ہیں۔ رات کے اوقات میں بجلی کی آنکھ مچولی نے شہریوں کی نیندیں بھی متاثر کر دی ہیں، شام اور رات کے وقت بار بار ٹرپنگ کے باعث صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق لوڈشیڈنگ کے بعد بجلی بحال ہوتے ہی بعض علاقوں میں ٹرانسفارمرز کے جمپر اترنے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کی شکایات سامنے آتی ہیں، جس کے باعث صارفین کو مزید کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہنا پڑتا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں تکنیکی خرابیوں اور ٹرانسفارمرز خراب ہونے کی شکایات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، ٹرانسفارمر خراب ہونے کی صورت میں شہریوں کو طویل دورانیے تک بجلی کی بحالی کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کے مطابق دن کے اوقات میں سولر سسٹمز کے استعمال کے باعث لیسکو کی بجلی کی طلب تقریباً 3500 سے 3700 میگاواٹ تک رہتی ہے، تاہم رات کے وقت سولر سسٹمز بند ہونے کے بعد طلب بڑھ کر تقریباً 5200 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طلب اور رسد میں فرق کے باعث رات کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔