لاہور ہائیکورٹ کا لیسکو سے 60 ارب روپے معاوضے کی وصولی کے فیصلے پر حکم امتناع
08-27-2026
(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے لیسکو سے 60 ارب روپے کے معاوضے کی وصولی کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر کے 3 ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد جواد حسن نے لیسکو کی درخواست پر عبوری تحریری حکم جاری کیا۔ لیسکو کی جانب سے بیرسٹر عمر ریاض عدالت میں پیش ہوئے، عدالتی حکم کے مطابق شہری کا مؤقف ہے کہ لیسکو نے 1976 میں اس کی 45 کنال اراضی پر گرڈ سٹیشن قائم کیا، جس کے بدلے لیسکو سے 60 ارب روپے معاوضہ واجب الادا ہیں۔ وفاقی محتسب نے 2013 میں زمین کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کی سفارش کی تھی، عدالت نے قرار دیا کہ 2015 کے فیصلے میں معاوضے کی ادائیگی سے قبل ریونیو ریکارڈ اور موقع پر معائنہ کرکے ملکیت اور رقبے کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سول کورٹ قصور نے 8 مئی 2023 کو لیسکو کے حق میں عبوری حکم جاری کیا، جبکہ معاوضے پر عملدرآمد کی کارروائی 16 ستمبر 2024 کو بند کردی گئی تھی۔ لیسکو نے زمین کی ملکیت ہی کو متنازع قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو اصل مالک قرار دیا ہے، عدالت نے قرار دیا کہ زمین کی ملکیت کا تنازع پہلے ہی سول کورٹ قصور میں زیر سماعت ہے، اس لیے ملکیت کے تعین کے بغیر معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ قانونی سوال بن گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ اگر معاوضے کا حکم پہلے سے نافذ نہیں ہوا تو آئندہ سماعت تک اس پر عملدرآمد نہ کیا جائے، عدالت نے معاوضے کا حق دار قرار دیے گئے شخص کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیا۔