دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی

08-27-2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس کے ایک ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سنگین جرم کا الزام اپنی جگہ، تاہم ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینا بھی عدالت کی ذمہ داری ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے محمد فاضل کی درخواست ضمانت پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی ملزم دو سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہو، ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو اور تاخیر کا ذمہ دار خود ملزم نہ ہو تو قانون کے تحت اسے ضمانت کا حق حاصل ہوسکتا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق محمد فاضل کے خلاف تھانہ صدر ڈیرہ غازی خان میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق 17 اپریل 2015 کو محمد فاضل سمیت 15 ملزمان کے خلاف محمد ریاض کے قتل اور دیگر افراد کو زخمی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا۔ محمد فاضل کو 2 جنوری 2024 کو گرفتار کیا گیا، پولیس نے 7 مئی 2024 کو چالان عدالت میں پیش کیا جبکہ 24 جون 2024 کو ملزم پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ اس کے بعد مقدمہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے مقرر ہوتا رہا، تاہم تقریباً دو سال سات ماہ گزرنے کے باوجود ایک بھی استغاثہ گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔ جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کی کارروائی میں تاخیر زیادہ تر استغاثہ اور شکایت کنندہ کی جانب سے ہوئی۔ بعض مواقع پر جج کی عدم دستیابی، ملزم کو جیل سے پیش نہ کیے جانے اور فریقین کی درخواستوں کے باعث سماعت ملتوی ہوئی، تاہم ملزم کی جانب سے زیادہ تر تاریخوں پر التوا نہیں مانگا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے مقدمے میں جس میں سزائے موت کا امکان ہو، اگر ملزم کی حراست کے دو سال کے اندر ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو تو مخصوص قانونی شرائط پوری ہونے پر اسے ضمانت کا قانونی حق حاصل ہوسکتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ٹرائل میں تاخیر خود ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے باعث ہوئی ہو تو اسے قانونی رعایت کا فائدہ نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ کیس میں ایسا کوئی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ٹرائل میں تاخیر محمد فاضل کی وجہ سے ہوئی۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل محمد عبد الودود نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے باہر رہا، اس لیے اس کی مفروری کو ضمانت کے فیصلے میں مدنظر رکھا جائے۔ عدالت نے سرکاری وکیل کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض سابقہ مفروری کی بنیاد پر ملزم کو ضمانت کے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، بالخصوص جب ٹرائل میں تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قانون میں بعض مخصوص حالات میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کے حق سے استثنا موجود ہے، تاہم استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ محمد فاضل کسی ایسے استثنائی زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے محمد فاضل کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور اتنی ہی مالیت کے دو ضامنوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔