لارڈز ٹیسٹ: رضوان اور سلمان علی آغا کو ٹیم میں رکھنے اور سعود شکیل کو ڈراپ کیے جانے کا امکان
08-27-2026
(ویب ڈیسک) انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کیلئے پاکستان نے محمد رضوان اور سلمان علی آغا کو پلیئنگ الیون میں برقرار رکھنے اور سعود شکیل کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہیڈنگلے لیڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں اننگز اور 103رنز سے شکست کے بعد قومی ٹیم کے سینئر کھلاڑی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ لارڈز ٹیسٹ میں سابق کپتان اور تجربے کار وکٹ کیپر محمد رضوان کی جگہ غازی غوری کو ٹیسٹ ڈیبیو کروانے جا رہی ہے اور لیڈز میں بابر اعظم کی عدم موجودگی میں قیادت کرنے والے سلمان علی آغا کو لارڈز ٹیسٹ کی ٹیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات سے لارڈز پر شروع ہونیوالے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم میں دونوں ہی سینیئر کھلاڑی شامل ہوں گے۔ 46 ٹیسٹ کھیلنے والے 34 سال کے محمد رضوان کے علاوہ 28 ٹیسٹ کھیلنے والے 32 سال کے سلمان علی آغا 11 رکنی ٹیم میں شامل ہوں گے۔ جبکہ ٹیسٹ کپتان بابر اعظم کی ایک میچ کی غیر حاضری کے بعد ٹیم میں شمولیت کے نتیجے میں 30 سال کے سعود شکیل جنہوں نے لیڈز ٹیسٹ میں 5 اور 14 رنز کی اننگز کھیلی تھی، انہیں ڈراپ کیا جائے گا۔ قومی سپنر علی عثمان کی جانب سے لیڈز میں 95 رنز دے کر 5 وکٹیں لینے کے بعد اس بات کا قوی امکان تھا کہ پاکستان 16 ٹیسٹ میں 28.81 کی اوسط سے 77 وکٹ لینے والے خیبر پختونخوا کے 32 سال کے دائیں ہاتھ کے سپنر ساجد خان کو بطور دوسرا سپنر لارڈز میں میدان میں اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم کپتان بابر اعظم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ علی عثمان کیساتھ دوسرے سپنر کی حیثیت سے سلمان علی آغا ان کی پہلی چوائس ہیں ۔ کپتان بابر اعظم کی ٹیم میں شمولیت کے بعد دوسری تبدیلی ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپن ٹرینیڈاڈ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنیوالے عبید شاہ ہوں گے، جنہیں خرم شہزاد کی جگہ کھلانے کی تجویز ہے۔