مہنگے پھل سستے نہ ہو سکے، سرکاری نرخنامہ بے اثر،عوام کی قوت خرید جواب دے گئی
08-26-2026
(لاہور نیوز) سرکاری ریٹ لسٹ میں ایک پھل کے نرخ میں اضافہ کر دیا گیا، تاہم پھلوں کی قیمتیں تاحال سرکاری نرخ ناموں کے برعکس وصول کی جا رہی ہیں۔
پوش علاقوں میں درجہ اول کے پھلوں کے منہ مانگے دام وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجوں کے پھل بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہو گئے ہیں۔ مہنگے پھل غریب اور متوسط طبقے کے لیے خواب بنتے جا رہے ہیں۔ مارکیٹ میں سرکاری نرخ اور عملی فروخت کی قیمتوں میں واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق سیب گاچہ سپیشل کی قیمت 300 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں درجہ اول کا سیب 440 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔کیلا درجہ اول 200 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں 240 روپے فی درجن تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ آم چونسہ لیٹ کی سرکاری قیمت 310 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 420 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔آڑو کی سرکاری قیمت 250 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر مارکیٹ میں 380 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ انگور سندرخانی کا سرکاری نرخ 535 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ پرچون بازاروں میں قیمت 900 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔امرود کا سرکاری نرخ 190 روپے فی کلو ہے، لیکن پرچون بازاروں میں 300 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ پپیتا 305 روپے فی کلو سرکاری نرخ کے مقابلے میں پرچون بازاروں میں 400 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔گرما کا سرکاری نرخ 185 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 250 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ ناشپاتی کے سرکاری نرخ میں 10 روپے اضافہ کرکے 280 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی قیمت 320 روپے فی کلو تک وصول کی جا رہی ہے۔اسی طرح ایرانی کھجور کی سرکاری قیمت 455 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں 540 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے جاری ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہونے سے مہنگے پھلوں کی خریداری مشکل ہوتی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے نرخوں پر مؤثر نگرانی اور گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔