ترسیلات زر وصولی: پاکستانی بینکوں کا سالانہ کروڑوں ڈالر بیرون ملک بھیجنے کا انکشاف
08-25-2026
(لاہور نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بیرون ملک سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر کی وصولی کے نظام سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ترسیلات زر وصول کرنے کے لیے پاکستانی بینک سالانہ تقریباً 800 ملین ڈالر بیرون ملک موجود بینکوں کو بھیجتے ہیں، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ترسیلات زر وصول کرنے کے لیے مقامی بینکوں کو بیرون ملک بینکوں کو بھاری چارجز ادا کرنا پڑتے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال تقریباً 256 ملین ڈالر ترسیلات زر وصول کرنے کے چارجز کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا حکومت نے گزشتہ مالی سال بینکوں کو 120 ارب روپے فراہم کیے تھے، تاہم رواں مالی سال اس مقصد کے لیے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ دوسری جانب ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے مالی سال 2025 میں بینکوں کو 124 ارب روپے جبکہ گزشتہ مالی سال 72 ارب روپے فراہم کیے گئے، حکومت کی جانب سے رواں مالی سال بجٹ مختص نہ کیے جانے کے باعث بینکوں کو ترسیلات زر کی وصولی کے لیے بیرونی بینکوں کو چارجز خود ادا کرنا ہوں گے۔ ڈاکٹر عنایت حسین کا کہنا تھا کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 سے ترسیلات زر کے لیے مالیاتی سکیم ختم کر دی ہے، اگر بینکوں نے بیرون ملک بینکوں کو یہ ادائیگیاں نہ کیں تو اس صورت میں ترسیلات زر پاکستان بھیجنے والے افراد کو فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ مزید برآں اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ترسیلات زر کی وصولی کے اخراجات میں اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث بن سکتا ہے۔