غیر قابلِ راضی نامہ جرم میں فریقین کی صلح ضمانت کیلئے مدنظر رکھی جاسکتی ہے: عدالت
08-25-2026
لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی ایسے جرم میں، جس میں قانونی طور پر صلح نہیں ہوسکتی، مدعی اور ملزم عدالت سے باہر باہمی رضامندی سے معاملہ طے کرلیں تو اس صلح کو ضمانت کے معاملے میں مدنظر رکھا جاسکتا ہے، تاہم ایسی صلح سے جرم کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ نے محمد اشفاق عرف اشتیاق کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کی پہلے سے منظور شدہ عبوری ضمانت پکی کردی۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور اتنی ہی رقم کے ایک ضامن کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا، عدالت کے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ سٹی ہارون آباد، ضلع بہاولنگر میں 2 مارچ 2026 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، ملزم پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406 کے تحت امانت میں خیانت کا الزام تھا۔ مقدمے کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھی نے مدعی کی موٹر کار عارضی استعمال کے لیے حاصل کی، لیکن گاڑی واپس کرنے کے بجائے اسے دوسرے شخص کو فروخت کردیا، سماعت کے دوران مدعی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا اور بتایا کہ فریقین کے درمیان معاملہ عدالت سے باہر طے پاچکا ہے۔ مدعی نے ملزم کی ضمانت پکی ہونے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا، سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دفعہ 406 کا جرم قابلِ راضی نامہ نہیں، اس لیے مدعی کی جانب سے صلح کا بیان قانون کے مطابق جرم ختم کرنے کے مترادف نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری وکیل کا یہ مؤقف درست ہے کہ اس جرم میں قانونی طور پر راضی نامہ نہیں ہوسکتا، تاہم فریقین کے درمیان رضاکارانہ صلح کو ضمانت کے معاملے میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر مدعی اپنی مرضی سے ملزم کو معاف کردے، مقدمہ مزید چلانے میں دلچسپی نہ رکھے اور ضمانت پر اعتراض بھی نہ کرے تو یہ صورتحال ضمانت دیتے وقت عدالت کے لیے ایک اہم پہلو ہوسکتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صلح سے جرم قابلِ راضی نامہ نہیں بن جاتا اور نہ ہی مقدمے کی قانونی نوعیت تبدیل ہوتی ہے، تاہم ضمانت کے فیصلے میں فریقین کے درمیان صلح اور مدعی کا عدم اعتراض مدنظر رکھا جاسکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں مدعی خود عدالت میں پیش ہوا، صلح کی تصدیق کی اور ملزم کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں کیا، اس لیے یہ عوامل ملزم کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت پکی کرنے کے لیے کافی ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کی پہلے سے منظور شدہ عبوری ضمانت کنفرم کردی۔