پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کی تیاریاں، لاہور میں 10 ٹاؤن کارپوریشنز قائم ہونگی
08-25-2026
(لاہور نیوز) پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت مقامی حکومتوں کی نئی حلقہ بندیاں مکمل کرلی گئی ہیں، جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت میٹروپولیٹن کارپوریشنز، ضلع کونسلز اور یونین کونسل وارڈ سسٹم ختم کرکے نیا بلدیاتی ڈھانچہ متعارف کرانے کی تیاری کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایکٹ 2025 کے سیکشن 7 کے تحت 7 لاکھ یا اس سے زائد آبادی والے شہروں میں ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی، جبکہ 2 لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں میں میونسپل کارپوریشنز بنائی جائیں گی۔ 25 ہزار سے 2 لاکھ آبادی والے شہری علاقوں میں میونسپل کمیٹیاں جبکہ دیہی علاقوں میں تحصیل کونسلز قائم ہوں گی۔ نئے نظام کے تحت بڑے شہروں کے شہری علاقوں میں ٹاؤن کارپوریشنز، جبکہ نیم شہری علاقوں کے دیہی حصوں میں تحصیل کونسلز قائم کی جائیں گی۔ آبادی کے تناسب سے 13 بڑے شہروں میں ٹاؤن کارپوریشنز قائم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں تحصیل کونسلز تشکیل دی جائیں گی۔ دستاویزات کے مطابق لاہور میں 10 ٹاؤن کارپوریشنز قائم ہوں گی۔ ایکٹ 2025 کے سیکشن 17 کے تحت ہر ٹاؤن کارپوریشن کا ایک میئر اور دو ڈپٹی میئرز ہوں گے۔ ڈپٹی میئر ٹاؤن اسمبلی کے سپیکر کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے گا۔ نئے قانون کے تحت یونین کونسل کے چیئرمین ٹاؤن کارپوریشن کے جنرل ممبران میں شامل ہوں گے، جبکہ ٹاؤن کارپوریشن کے جنرل ممبران میں خواتین، غیر مسلم، کسان، لیبر، ٹیکنوکریٹ، یوتھ اور معذور افراد کے لیے مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔ سیکشن 15 کے مطابق یونین کونسل کا ایوان 13 ارکان پر مشتمل ہوگا، جن میں 9 منتخب کونسلرز جبکہ خواتین، یوتھ، لیبر اور اقلیتی نمائندوں کے لیے مخصوص نشستیں شامل ہوں گی۔ نئے ایکٹ کے تحت یونین کونسل کی آبادی 22 ہزار سے 31 ہزار نفوس کے درمیان مقرر کی جائے گی، جبکہ 2022 کے ایکٹ میں یونین کونسل کی آبادی کا کوئی مقررہ تناسب نہیں تھا۔ ایکٹ 2025 کے مطابق چیئرمین کا انتخاب منتخب کونسلرز کریں گے۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں مجموعی طور پر 10 میئر اور 20 ڈپٹی میئر ہوں گے۔ دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں گے، جبکہ بلدیاتی انتخابات دسمبر 2026 اور جنوری 2027 میں کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نئے بلدیاتی قانون کے حوالے سے مقامی حکومتوں کی خودمختاری پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مؤثر بلدیاتی نظام کے لیے منتخب مقامی حکومتوں کو انتظامی اور مالی اختیارات دینا ضروری ہیں، بصورت دیگر بیوروکریسی کا اثر و رسوخ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔