ماضی کے جرم پر نیا اور سخت قانون لاگو نہیں ہوسکتا: لاہور ہائیکورٹ
08-25-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ماضی میں کیے گئے مبینہ جرم پر بعد میں نافذ ہونے والی زیادہ سخت سزا کا قانون لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس محمد امجد پرویز نے محمد عباس کی درخواست ضمانت پر 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ 2025 کی امیگریشن ترمیم 2024 میں مبینہ طور پر کیے گئے جرم پر لاگو نہیں ہوسکتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 12 کسی شخص کو جرم کے وقت مقرر سزا سے زیادہ یا مختلف نوعیت کی سزا دیے جانے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ماضی میں کیے گئے جرم پر بعد میں نافذ ہونے والی زیادہ سخت سزا کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ ایف آئی اے نے محمد عباس کے خلاف عمان میں ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر 9 لاکھ روپے ہتھیانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھی نے مدعیہ سے رقم نقد اور بینک ٹرانزیکشن کے ذریعے وصول کی، تاہم اسے بیرون ملک نہیں بھیجا گیا اور رقم بھی واپس نہیں کی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر تقریباً ایک سال کی تاخیر سے درج کی گئی جبکہ مبینہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ، وقت اور جگہ کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ مزید تحقیقات کے دائرے میں آتا ہے، لہٰذا اسے مزید جیل میں رکھنا ٹرائل سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہوگا۔ عدالت نے محمد عباس کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان غنی عدالت میں پیش ہوئے۔