ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجری منصوبہ، پہلے مرحلے میں 10 مریضوں کو سہولت دینے کی تیاری

08-25-2026

(ویب ڈیسک)پنجاب میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجری کے ذریعے مصنوعی دل لگانے کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع ہو گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کے ڈین معروف ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجن پروفیسر ڈاکٹر حسنات احمد خان اور چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرقد عالمگیر کو منصوبے پر فوری عملدرآمد کا ٹاسک دے دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے مذکورہ ماہرین کی سفارش پر چین سے کم از کم 10 مریضوں کیلئے 10 مصنوعی دل منگوانے کا انتظام کرنے کی بھی ہدایت جاری کر دی، جس پر عملی کام شروع کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسانی دل کے عطیہ اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے درپیش مشکلات کے پیش نظر شدید اور آخری درجے کے دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے مصنوعی دل اور جدید مکینیکل سرکولیٹری سپورٹ کی سہولت متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے مریض جن کا قدرتی دل انتہائی کمزور ہو چکا ہو، شدید ہارٹ فیلئر کا شکار ہوں یا جن کیلئے انجیو پلاسٹی، کارڈیک سرجری یا اوپن ہارٹ سرجری مؤثر آپشن نہ رہی ہو، انہیں مصنوعی دل کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کو امریکہ اور چین سے مصنوعی دل کے حصول کے اخراجات کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، امریکہ سے مصنوعی دل کی قیمت تقریباً 90 ہزار امریکی ڈالر جبکہ چین سے اسی نوعیت کی ڈیوائس تقریباً 9 ہزار امریکی ڈالر میں دستیاب ہونے کی تجویز سامنے آئی، کم لاگت کے باعث چین سے مصنوعی دل حاصل کرنے کو زیادہ قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اس منصوبے کیلئے طبی، تکنیکی اور انتظامی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں اور ستمبر تک بنیادی تیاریاں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے, اکتوبر کے وسط یا زیادہ سے زیادہ نومبر کے آغاز تک پہلے مریض میں مصنوعی دل لگانے کا عمل شروع کئے جانے کا امکان ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسنات احمد خان کی سربراہی میں متعلقہ سرجنز، کارڈیالوجسٹ، اینستھیزیا ٹیم اور دیگر شعبہ جات کو اس جدید علاج کیلئے مربوط انداز میں تیار کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کم از کم 10 مریضوں کو یہ سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ مستقبل میں اس پروگرام کو وسعت دینے اور پاکستان میں باقاعدہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر بھی کام کیا جائے گا۔